hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4480

.

الطحاوي

4480
Al Tahawi
۴۴۸۰: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَہْمِیُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّہٗ قَالَ فِی الْمُطَلَّقَۃِ : اِنَّہَا لَا تَعْتَکِفُ ، وَلَا الْمُتَوَفّٰی عَنْہَا زَوْجُہَا ، وَلَا تَخْرُجَانِ مِنْ بُیُوْتِہِمَا ، حَتّٰی تُوُفِّیَا أَجَلَہُمَا .فَہٰذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَدْ رَوٰی عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ اِذْنِہٖ لِخَالَتِہِ فِی الْخُرُوْجِ فِیْ جِدَادِ نَخْلِہَا فِیْ عِدَّتِہَا ، مَا قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ ہٰذَا الْکِتَابِ ، ثُمَّ قَدْ قَالَ ہُوَ بِخِلَافِ ذٰلِکَ ، فَہٰذَا دَلِیْلٌ عَلَی ثُبُوْتِ نَسْخِ ذٰلِکَ عِنْدَہٗ .وَفِیْ حَدِیْثِ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَیْضًا الَّذِیْ ذٰکَرْنَاہُ عَنْہُ مِنْ قَوْلِہٖ ، تَسْوِیَتُہُ بَیْنَ الْمُطَلَّقَۃِ ، وَالْمُتَوَفّٰی عَنْہَا زَوْجُہَا فِیْ ذٰلِکَ .فَلَمَّا کَانَتَا فِیْ عِدَّتِہِمَا سَوَائً فِیْ بَعْضِ الْاِحْدَادِ ، کَانَتَا کَذٰلِکَ فِیْ کُلِّ الْاِحْدَادِ ، وَقَدْ کَانَ قَبْلَ ذٰلِکَ فِیْ بَعْضِ الْعِدَّۃِ ، عَلٰی مَا ذَکَرْنَا فِیْ حَدِیْثِ أَسْمَائَ ، ثُمَّ نُسِخَ ذٰلِکَ وَجُعِلَ الْاِحْدَادُ فِیْ کُلِّ الْعِدَّۃِ .فَیَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ مَا أُمِرَتْ بِہٖ خَالَۃُ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، کَانَ وَالْاِحْدَادُ اِنَّمَا ہُوَ فِی الثَّلَاثَۃِ الْأَیَّامِ مِنَ الْعِدَّۃِ ، ثُمَّ نُسِخَ ذٰلِکَ وَجُعِلَ الْاِحْدَادُ فِیْ کُلِّ الْعِدَّۃِ .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنِ الْمُتَقَدِّمِیْنَ ،
٤٤٨٠: ابوالزبیر نے جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ انھوں نے مطلقہ کے سلسلہ میں فرمایا وہ اعتکاف نہ کرے گی اور نہ وہ عورت اعتکاف کرے گی جس کا خاوند فوت ہوچکا ہو اور وہ عدت کے پورا ہونے تک گھروں سے نہ نکلیں گی۔ یہ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) ہیں جن کی روایت شروع باب میں ہم نقل کر آئے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی خالہ کو ایام عدت میں کھجوریں توڑنے کے لیے اپنے باغ میں جانے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی جبکہ اس روایت میں جابر (رض) خود اس کے خلاف فتویٰ دے رہے ہیں اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ روایت منسوخ ہے۔ نیز انہی جابر (رض) کی روایت میں ہم ذکر کر آئے کہ انھوں نے مطلقہ اور اس عورت کو جو بیوہ ہو اس سلسلے میں برابر قرار دیا۔ پس جب دونوں عدت کے سلسلہ میں بعض سوگ میں برابر ہیں تو تمام سوگ میں کیونکر برابر نہ ہوں گی اور شروع میں اسی طرح تھا کہ بعض عدت میں سوگ تھا جیسا کہ ہم نے اسماء بنت عمیس (رض) کی روایت کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔ پھر یہ بات منسوخ ہوگئی اور سوگ کو پوری عدت میں لازم کردیا گیا۔ اس سے جابر (رض) نے اپنی خالہ سے جو روایت نقل کی ہے اس میں احتمال پیدا ہوا کہ بھی عدت کے تین دن سوگ والے معاملے کے ساتھ ہو پھر تین دن کے منسوخ ہونے سے یہ بھی منسوخ ہوگیا اور سوگ پوری عدت میں لازم کردی گئی اور یہ بات بھی متقدمین سے مروی ہے۔
تبصرہ طحاوی (رح) : یہ جابر بن عبداللہ جن کی روایت شروع باب میں ہم نقل کر آئے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی خالہ کو ایام عدت میں کھجوریں توڑنے کے لیے اپنے باغ میں جانے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی جبکہ اس روایت میں جابر (رض) خود اس کے خلاف فتویٰ دے رہے ہیں اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ روایت منسوخ ہے۔
نیز انہی جابر (رض) کی روایت میں ہم ذکر کر آئے کہ انھوں نے مطلقہ اور اس عورت کو جو بیوہ ہو اس سلسلے میں برابر قرار دیا۔ پس جب دونوں عدت کے سلسلہ میں بعض سوگ میں برابر ہیں تو تمام سوگ میں کیونکر برابر نہ ہوں گی اور شروع میں اسی طرح تھا کہ بعض عدت میں سوگ تھا جیسا کہ ہم نے اسماء بنت عمیس (رض) کی روایت کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔ پھر یہ بات منسوخ ہوگئی اور سوگ کو پوری عدت میں لازم کردیا گیا۔
اس سے جابر (رض) نے اپنی خالہ سے جو روایت نقل کی ہے اس میں احتمال پیدا ہوا کہ بھی عدت کے تین دن سوگ والے معاملے کے ساتھ ہو پھر تین دن کے منسوخ ہونے سے یہ بھی منسوخ ہوگیا اور سوگ پوری عدت میں لازم کردیا گیا اور یہ بات بھی متقدمین سے مروی ہے۔