۴۴۹ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَجَائٍ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ إِسْمَاعِیْلَ بْنِ أَبِیْ خَالِدٍ، عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیٍّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، مِثْلَہٗ، غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ " قُمْ فَاغْسِلْ یَدَک " .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ الْوُضُوْئُ الَّذِیْ رَوَاہُ الْحَاکِمُ فِیْ حَدِیْثِہٖ، عَنْ مُصْعَبٍ، ہُوَ غَسْلُ الْیَدِ، عَلٰی مَا بَیَّنَہٗ عَنْہُ الزُّبَیْرُ بْنُ عَدِیٍّ، حَتّٰی لَا یَتَضَادَّ الرِّوَایَتَانِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ سَعْدٍ مِنْ قَوْلِہٖ" إِنَّہٗ لَا وُضُوْئَ فِیْ ذٰلِکَ " .
٤٤٩: اسماعیل بن ابی خالد عن الزبیری بن عدی عن مصعب بن سعد نے اسی طرح روایت کی ہے البتہ یہ الفاظ مختلف ہیں : قم فاغسل یدک اٹھو اور اپنا ہاتھ دھو ڈالو۔
ان روایات کی موافقت کے لیے مصعب کی زبیر بن عدی والی روایت کو سامنے رکھنا ہوگا مزید برآں خود حضرت سعد (رض) سے وضو کی نفی والی روایات مسئلہ کو صاف کردیتی ہیں۔ روایات ملاحظہ ہوں۔ ممکن ہے کہ وہ وضو جس کو حکم نے مصعب سے نقل کیا اس سے مراد ہاتھ کا دھونا ہو جیسا کہ اس کو زبیر بن عدی نے بیان کیا تاکہ دونوں روایتوں کا تضاد نہ رہے۔ حضرت سعد کی روایت میں ارشاد ہے کہ اس میں وضو نہیں۔