۴۴۹۵: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ : ثَنَا ہِشَامٌ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ : الْمُطَلَّقَۃُ ثَلَاثًا ، وَالْمُخْتَلِعَۃُ ، وَالْمُتَوَفّٰی عَنْہَا زَوْجُہَا ، وَالْمُلَاعَنَۃُ .لَا تَخْتَضِبْنَ ، وَلَا تَتَطَیَّبْنَ ، وَلَا یَلْبَسْنَ ثَوْبًا مَصْبُوْغًا ، وَلَا یَخْرُجْنَ مِنْ بُیُوْتِہِنَّ .فَہٰؤُلَائِ الَّذِیْنَ رَوَیْنَا عَنْہُمْ ہٰذِہِ الْآثَارَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِیْنَ ، قَدْ مَنَعُوْا الْمُتَوَفّٰی عَنْہَا زَوْجُہَا مِنَ السَّفَرِ وَالِانْتِقَالِ مِنْ بَیْتِہَا فِیْ عِدَّتِہَا ، وَرَخَّصُوْا لَہَا فِی الْخُرُوْجِ ، فِیْ بَیَاضِ نَہَارِہَا ، عَلٰی أَنْ تَبِیْتَ فِیْ بَیْتِہَا .وَقَدْ قَرَنَ بَعْضُہُمْ مَعَہَا الْمُطَلَّقَۃَ الْمَبْتُوْتَۃَ ، فَجَعَلَہَا کَذٰلِکَ فِیْ مَنْعِہِ اِیَّاہَا مِنَ السَّفَرِ ، وَالِانْتِقَالِ مِنْ بَیْتِہَا فِیْ عِدَّتِہَا وَلَمْ یُرَخِّصْ أَحَدٌ مِنْہُمْ لَہَا فِی الْخُرُوْجِ مِنْ بَیْتِہَا نَہَارًا ، کَمَا رُخِّصَ لِلْمُتَوَفَّیْ عَنْہَا زَوْجُہَا .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ مَا ذَکَرْنَا مِنْ مَنْعِہِمَا مِنَ السَّفَرِ فِیْ عِدَّتِہِمَا وَالْخُرُوْجِ مِنْ مَنْزِلِہِمَا اِلَّا مَا رُخِّصَ لِلْمُتَوَفَّیْ عَنْہَا زَوْجُہَا مِنَ الْخُرُوْجِ مِنْ بَیْتِہَا ، فِیْ بَیَاضِ نَہَارِہَا عَلَی الضَّرُوْرَۃِ .وَہٰذَا کُلُّہٗ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَاِنَّ عَائِشَۃَ قَدْ کَانَتْ سَافَرَتْ بِأُخْتِہَا أُمِّ کُلْثُوْمٍ فِیْ عِدَّتِہَا. وَذَکَرَ فِیْ ذٰلِکَ ۔
٤٤٩٥: ہشام کہتے ہیں کہ حماد بن ابراہیم نے بیان کیا کہ جس عورت کو تین طلاق مل جائیں یا اس سے خلع کیا گیا ہو یا بیوہ ہوگئی ہو اور لعان والی عورت یہ تمام عورتیں ایام عدت میں نہ خضاب لگائیں نہ خوشبو اور نہ ہی رنگا ہوا کپڑا زیب تن کریں اور نہ اپنے گھر سے نکلیں۔ یہ صحابہ کرام (رض) اور تابعین (رح) جن کے اقوال ہم نے اوپر نقل کئے یہ تمام بیوہ معتدہ کو سفر اور عدت والے گھر سے منتقل ہونے سے منع کرتے ہیں صرف صبح کے سپیدا میں ان کو نکلنے کی اجازت دیتے ہیں اور وہ بھی اس شرط پر کہ وہ رات اپنے گھر میں آ کر گزارے اور ان میں سے بعض نے طلاق بائنہ والی عورت کو بھی اس کے ساتھ ہی شمار کر کے سفر سے روکا ہے اور اسی طرح عدت والے مکان سے منتقل ہونے کی اجازت نہیں دی اور بیوہ معتدہ کے علاوہ دوسری کسی عدت والی عورت کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دی اس سے یہ ثابت ہوا کہ عدت والی عورت کو سفر کی اجازت نہیں اور مکان سے بھی نکلنے کی صرف بیوہ معتدہ کو اجازت ہے مگر وہ بھی دن کے وقت شدید ضرورت کی وجہ سے مگر رات وہیں گزارنا ضروری ہے۔ یہ تمام امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔ اگر کوئی معترض یہ بات کہے کہ حضرت عائشہ (رض) کے متعلق روایت موجود ہے کہ انھوں نے اپنی بہن امّ کلثوم کو ایام عدت میں ساتھ لے کر سفر کیا۔ روایت یہ ہے۔
تشریح یہ صحابہ کرام اور تابعین (رض) جن کے اقوال ہم نے اوپر نقل کئے یہ تمام بیوہ معتدہ کو سفر اور عدت والے گھر سے منتقل ہونے سے منع کرتے ہیں صرف صبح کے سپیدا میں ان کو نکلنے کی اجازت دیتے ہیں اور وہ بھی اس شرط پر کہ وہ رات اپنے گھر میں آ کر گزارے اور ان میں سے بعض نے طلاق بائنہ والی عورت کو بھی اس کے ساتھ ہی شمار کر کے سفر سے روکا ہے اور اسی طرح عدت والے مکان سے منتقل ہونے کی اجازت نہیں دی اور بیوہ معتدہ کے علاوہ دوسری کسی عدت والی عورت کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دی اس سے یہ ثابت ہوا کہ عدت والی عورت کو سفر کی اجازت نہیں اور مکان سے بھی نکلنے کی صرف بیوہ معتدہ کو اجازت ہے مگر وہ بھی دن کے وقت شدید ضرورت کی وجہ سے مگر رات وہیں گزارنا ضروری ہے۔
یہ تمام امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔