hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4503

.

الطحاوي

4503
Al Tahawi
۴۵۰۳: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ حُمَیْدٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدِ وَابْنُ أَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ عَنْ أَبِیْہَ قَالَ الْأَعْمَشُ عَنْ عَائِشَۃَ اِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُعْتِقَتْ بَرِیْرَۃُ ، خَیَّرَہَا ، وَکَانَ زَوْجُہَا عَبْدًا . قَالُوْا : فَہٰذِہِ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا تُخْبِرُ أَنَّ زَوْجَ بَرِیْرَۃَ کَانَ عَبْدًا ، فَہٰذَا خِلَافُ مَا رَوَیْتُمُوْھُ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْہَا .ثُمَّ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا : لَوْ کَانَ حُرًّا لَمْ یُخَیِّرْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .قِیْلَ لَہُمْ : أَمَّا ہٰذَا الْحَرْفُ ، فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ مِنْ کَلَامِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ، وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ مِنْ کَلَامِ عُرْوَۃَ .وَاحْتَجَّ أَہْلُ ہٰذِہِ الْمَقَالَۃِ ، فِیْ تَثْبِیتِ مَا رَوَوْہُ فِیْ زَوْجِ بَرِیْرَۃَ أَنَّہٗ کَانَ عَبْدًا
٤٥٠٣: ہشام بن عروہ نے عبدالرحمن بن قاسم سے انھوں نے عبدالعزیز انھوں نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ اعمش نے عائشہ (رض) سے نقل کیا کہ جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بریرہ (رض) کو آزاد کیا اور اس کو اختیار دیا تو اس وقت بریرہ (رض) کا خاوند غلام تھا۔ یہ حضرت عائشہ (رض) بتلا رہی ہیں کہ بریرہ کا خاوند غلام تھا۔ یہ اسود کی نقل کردہ روایات کے خلاف ہے پھر ان روایات میں یہ بات بھی مذکور ہے کہ اگر وہ آزاد ہوتا تو بریرہ (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اختیار نہ دیتے۔ ان سے کہا جائے گا فریق ثانی کی مستدل روایات میں جو ” لو کان حرا۔۔۔“ کے الفاظ پائے جاتے ہیں ممکن ہے کہ یہ عائشہ (رض) کا کلام ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ عروہ کا کلام ہو۔ پس محتمل روایت سے استدلال باقی نہ رہا۔ اگر وہ روایت محتمل ہوگئی تو یہ دوسری روایت حاضر ہے جو ثابت کر رہی ہے کہ بریرہ کا خاوند غلام تھا۔ ملاحظہ ہو۔
طریق استدلال : یہ حضرت عائشہ (رض) بتلا رہی ہیں کہ بریرہ کا خاوند غلام تھا۔ یہ اسود کی نقل کردہ روایات کے خلاف ہے پھر ان روایات میں یہ بات بھی مذکور ہے کہ اگر وہ آزاد ہوتا تو بریرہ (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اختیار نہ دیتے۔
فریق اوّل کا جواب : فریق ثانی کی مستدل روایات میں جو ” لو کان حرا۔۔۔“ کے الفاظ پائے جاتے ہیں ممکن ہے کہ یہ عائشہ (رض) کا کلام ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ عروہ کا کلام ہو۔ پس محتمل روایت سے استدلال باقی نہ رہا۔
ایک اور اشکال :
اگر وہ روایت محتمل ہوگئی تو یہ دوسری روایت حاضر ہے جو ثابت کر رہی ہے کہ بریرہ کا خاوند غلام تھا۔ ملاحظہ ہو۔