۴۵۰۸: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدٍ وَفَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَا : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ الْہَمْدَانِیِّ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ، فَقَالَ ہِیَ فِیْ کُلِّ رَمَضَانَ فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہَا فِیْ کُلِّ رَمَضَانَ فَقَالَ قَوْمٌ : ہٰذَا دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہَا قَدْ تَکُوْنُ فِیْ أَوَّلِہٖ ، وَفِیْ وَسَطِہٖ، کَمَا قَدْ تَکُوْنُ آخِرَہٗ .وَقَدْ یَحْتَمِلُ قَوْلُہٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ کُلِّ رَمَضَانَ ہٰذَا الْمَعْنٰی ، وَیَحْتَمِلُ أَنَّہَا فِیْ کُلِّ رَمَضَانَ تَکُوْنُ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ .مَعَ أَنَّ أَصْلَ ہٰذَا الْحَدِیْثِ مَوْقُوْفٌ ، کَذٰلِکَ رَوَاہُ الْأَثْبَاتُ عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ۔
٤٥٠٨: سعید بن جبیر سے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لیلۃ القدر کے متعلق دریافت کیا گیا اور میں خود سن رہا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ تمام رمضان میں ہوتی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ لیلۃ القدر تمام رمضان میں ہے اسی وجہ سے ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ رمضان کی ابتداء ‘ درمیان اور کبھی آخر میں ہوئی ہے۔ یہ پہلا احتمال ہے۔ لیلۃ القدر قیامت تک آنے والے ہر رمضان میں ہے (یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی میں ہو اور کسی میں نہ ہو) یہ روایت موقوف ہے جیسا کہ ثقہ روات نے اس کو ابو اسحاق سے روایت کیا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ لیلۃ القدر تمام رمضان میں ہے اسی وجہ سے ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ رمضان کی ابتداء ‘ درمیان اور کبھی آخر میں ہوئی ہے۔ یہ پہلا احتمال ہے۔
دوسرا احتمال : لیلۃ القدر قیامت تک آنے والے ہر رمضان میں ہے (یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی میں ہو اور کسی میں نہ ہو)