۴۵۱۱: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِی ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ فَقَالَ ہِیَ فِیْ رَمَضَانَ کُلِّہِ .فَاِنْ کَانَ ہَذَا ہُوَ لَفْظُ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، فَقَدْ ثَبَتَ بِہٖ أَنَّ مَعْنَی قَوْلِہٖ ہِیَ فِیْ کُلِّ رَمَضَانَ یُرِیْدُ أَنَّہَا فِیْ کُلِّ الشَّہْرِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خِلَافُ ذٰلِکَ۔
٤٥١١: سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے لیلۃ القدر کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا وہ تمام رمضان میں ہے۔ پس اگر بعینہٖ لفظ یہی ہوں تو اس سے ہی فی کل رمضان مطلب یہ ہے کہ وہ تمام مہینے میں ہوتی ہے۔ حالانکہ ابن عمر (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے خلاف روایت نقل کی ہے۔ ملاحظہ ہو۔