hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4518

.

الطحاوي

4518
Al Tahawi
۴۵۱۸: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِسْحَاقَ الْحَضْرَمِیُّ ، قَالَ : ثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبُوْ زُمَیْلٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا ذَر فَقُلْتُ :أَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ کُنْتُ أَسْأَلُ النَّاسَ عَنْہَا قَالَ عِکْرِمَۃُ یَعْنِیْ أُشْبِعَ سُؤَالًا .قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَخْبِرْنِیْ عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ، أَفِیْ رَمَضَانَ ہِیَ ، أَوْ فِیْ غَیْرِہٖ؟ قَالَ : فِیْ رَمَضَانَ قُلْتُ :وَتَکُوْنُ مَعَ الْأَنْبِیَائِ مَا کَانُوْا ، فَاِذَا رَفَعُوْا رُفِعَتْ ؟ قَالَ : بَلْ ہِیَ اِلَیْ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ قُلْتُ :فِیْ أَیِّ رَمَضَانَ ہِیَ ؟ قَالَ : فِی الْعَشْرِ الْأُوَلِ ، أَوْ فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ .ثُمَّ حَدَّثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثْتُ ، فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، فِیْ أَیِّ الْعِشْرِیْنَ ہِیَ ؟ قَالَ : الْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، لَا تَسْأَلْنِیْ عَنْ شَیْئٍ بَعْدَہَا .ثُمَّ حَدَّثَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ فَقُلْتُ :یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَقْسَمْتُ عَلَیْکَ بِحَقِّیْ عَلَیْکَ لَتُخْبِرَنِیْ فِیْ أَیِّ الْعَشْرِ ہِیَ ؟ فَغَضِبَ عَلَیَّ غَضَبًا لَمْ یَغْضَبْ عَلَیَّ قَبْلُ وَلَا بَعْدُ ، ثُمَّ قَالَ : اِنَّ اللّٰہَ لَوْ شَائَ لَأَطْلَعَکُمْ عَلَیْہَا ، الْتَمِسُوْہَا فِی السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، لَا تَسْأَلْنِیْ عَنْ شَیْئٍ بَعْدَہَا
٤٥١٨: ابو زمیل نے مالک بن مرثد سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ میں نے ابو ذر (رض) سے پوچھا اور کہا کیا آپ نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لیلۃ القدر کے متعلق پوچھا تھا ؟ وہ فرمانے لگے۔ ہاں ! میں اس کے متعلق لوگوں میں سب سے زیادہ سوال کرنے والا تھا عکرمہ کی روایت میں ” اشبع سوالًا “ سوال پر حریص ہے میں نے پوچھا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھے لیلۃ القدر کے متعلق بتلائیں کیا یہ رمضان میں ہے یا غیر رمضان میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ رمضان میں ہے۔ میں نے دوسرا سوال کیا کیا یہ انبیاء (علیہم السلام) کی حیات تک رہتی ہے جب ان کو اٹھا لیا جاتا ہے تو یہ بھی اٹھ جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا بلکہ یہ قیامت کے دن تک ہوگی۔ میں نے کہا یہ کون سے رمضان میں ہوتی ہے یعنی اس کے کس حصے میں ہوتی ہے آپ نے فرمایا اوّل عشرہ میں یا آخری عشرہ میں۔ پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بات کی اور میں نے بھی بات کی کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کون سے بیس دنوں میں ہوتی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے آخری عشرہ میں تلاش کرو اور آئندہ کسی چیز سے متعلق اس طرح سوال مت کرو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باتیں کرتے رہے اور میں بھی باتیں کرتا رہا میں نے پھر کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ کو اس حق کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں جو میرا آپ پر ہے۔ آپ مجھے یہ تو ضرور بتلا دیں کہ وہ کون سے عشرہ میں ہوتی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سن کر اس قدر ناراض ہوئے کہ پہلے اور بعد میں بھی کبھی اتنے ناراض نہیں ہوئے۔ پھر آپ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ مناسب خیال فرماتے تو ضرور تمہیں اس کی اطلاع دے دیتے اس کو تم آخری سات روز میں تلاش کرو۔ اس کے بعد مجھ سے کسی چیز کے متعلق مت سوال کرنا۔
تخریج : ابو داؤد فی رمضان باب ٢: مسند احمد ٥‘ ١٣٠؍١٣١‘ ٣٢١۔