hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4525

.

الطحاوي

4525
Al Tahawi
۴۵۲۵: حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی الْحِمَّانِیُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُوْسَی بْنِ عُقْبَۃَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی النَّضْرِ ، عَنْ أَبِیْ سَلْمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سَعِیْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُنَیْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَیْتنِیْ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ کَأَنِّیْ أَسْجُدُ فِیْ مَائٍ وَطِیْنٍ فَأَصَابَتْنَا لَیْلَۃُ مَطَرٍ ، فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَرَأَیْتُہٗ یَسْجُدُ فِیْ مَائٍ وَطِیْنٍ ، فَاِذَا ہِیَ لَیْلَۃُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ .فَأَمَّا مَا رَوَیْنَاہُ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَبِیْ ذٰر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، فَاِنَّ فِیْہِ الْأَمْرَ بِتَحَرِّیہَا فِی السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ فَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ تَکُوْنَ فِیْ تِلْکَ السَّبْعِ ، دُوْنَ سَائِرِ الشَّہْرِ ، وَیُحْتَمَلُ أَنْ تَکُوْنَ فِیْ تِلْکَ السَّبْعِ ، وَأَنْ تَکُوْنَ فِیْ غَیْرِہَا مِنِ الشَّہْرِ اِلَّا أَنَّہَا أَکْثَرُ مَا تَکُوْنُ فِیْ تِلْکَ السَّبْعِ ، فَأَمَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی التَّحَرِّی فِیْہَا کَذٰلِکَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَیْضًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ أَمَرَہُمْ بِأَنْ یَتَحَرَّوْہَا فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنَ الشَّہْرِ۔
٤٥٢٥: بشر بن سعید نے عبداللہ بن انیس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں لیلۃ القدر کی رات پانی اور مٹی میں سجدہ کررہا ہوں چنانچہ ایک رات بارش ہوگئی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز صبح پڑھائی تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہے ہیں اور یہ تئیسویں شب تھی۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : ہم نے اس باب میں حضرت ابن عمر ‘ ابو ذر (رض) کی جو روایات نقل کی ہیں ان میں رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کا حکم ہے اس میں تین احتمال ہیں۔ وہ آخری سات راتوں میں ہو بقیہ مہینہ میں نہ ہو۔ ان سات راتوں میں ہو اور ممکن ہے مہینہ کی ان کے علاوہ راتوں میں ہو۔ مگر اکثر و بیشتر انہی سات راتوں میں آتی ہو ‘ اس لیے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں تحری کا حکم فرمایا اور حضرت ابن عمر (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ اس کو آخری عشرہ میں تلاش کریں۔ جیسا کہ یہ روایت ہے۔
تخریج : بخاری فی لیلۃ القدر باب ٢‘ ٣‘ مسلم فی الصیام ٢١٣؍٢١٤‘ ابو داؤد فی رمضان باب ٣‘ مالک فی الاعکاف ٩‘ مسند احمد ٣‘ ٧٠؍٦٠۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : ہم نے اس باب میں ابن عمر ‘ ابو ذر (رض) کی جو روایات نقل کی ہیں ان میں رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کا حکم ہے اس میں تین احتمال ہیں۔
نمبر 1: وہ آخری سات راتوں میں ہو بقیہ مہینہ میں نہ ہو۔
نمبر 2: ان سات راتوں میں اور ممکن ہے مہینہ کی ان کے علاوہ راتوں میں ہو۔ مگر اکثر و بیشتر انہی سات راتوں میں آتی ہے اس لیے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں تحری کا حکم فرمایا
نمبر 3: اور ابن عمر (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ اس کو آخری عشرہ میں تلاش کریں۔ جیسا کہ یہ روایت ہے۔