۴۵۵۱: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّیْثِیِّ أَنَّہٗ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَی الْمِنْبَرِ یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَی ، فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ فَہِجْرَتُہُ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ اِلَی دُنْیَا یُصِیْبُہَا أَوْ اِلَی امْرَأَۃٍ یَتَزَوَّجُہَا ، فَہِجْرَتُہُ اِلَی مَا ہَاجَرَ اِلَیْہِ .
٤٥٥١: علقمہ بن وقاص لیثی (رح) نے حضرت عمر (رض) کو منبر پر یہ خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو کہ اس کو حاصل کرے یا کسی عورت کے لیے ہو کہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہوگی جس کی جانب اس نے ہجرت کی ہے۔
تخریج : بخاری فی بدء الوحی باب ١‘ الایمان باب ٤١‘ الاکراہ فی الترجمہ والنکاح باب ٥‘ الطلاق باب ١١‘ مناقب الانصار باب ٤٥‘ العتق باب ٦‘ الایمان باب ٢٣‘ والحیل باب ١‘ مسلم فی الامارہ ١٥٥‘ ابو داؤد فی الطلاق باب ١١‘ ترمذی فی فضائل الجہاد باب ١٦‘ نسائی فی الطہارۃ باب ٥٩‘ والطلاق باب ٢٤‘ والایمان باب ١٩‘ ابن ماجہ فی الزہد ٢٦‘ مسند احمد ١‘ ٢٥؍٤٣۔