۴۵۵۸: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْعَلَّافُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ سَوَائٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ سِنَانٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیْزِ یَقُوْلُ : طَلَاقُ السَّکْرَانِ وَالْمُکْرَہِ جَائِزٌ.
قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : ذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا نَفَیْ حَمْلَ امْرَأَتِہٖ، أَنْ یَکُوْنَ مِنْہٗ، لَاعَنَ الْقَاضِیْ بَیْنَہَا وَبَیْنَہُ بِذٰلِکَ الْحَمْلِ ، وَأَلْزَمَہُ أُمَّہٗ، وَأَبَانَ الْمَرْأَۃَ مِنْ زَوْجِہَا وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِحَدِیْثٍ یُحَدِّثُہُ عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بِالْحَمْلِ وَقَدْ کَانَ أَبُوْ یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہٗ، قَالَ بِہٰذَا الْقَوْلِ مَرَّۃً ، وَلَیْسَ ہُوَ بِالْمَشْہُوْرِ مِنْ قَوْلِہٖ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا یُلَاعِنُ بِحَمْلٍ ، لِأَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ لَا یَکُوْنَ حَمْلًا ، لِأَنَّ مَا یَظْہَرُ مِنَ الْمَرْأَۃِ مِمَّا یُتَوَہَّمُ بِہٖ أَنَّہَا حَامِلٌ ، لَیْسَ یُعْلَمُ بِہٖ حَمْلٌ عَلٰی حَقِیْقَۃٍ ، اِنَّمَا ہُوَ تَوَہُّمٌ ، فَنَفْیُ الْمُتَوَہَّمِ لَا یُوْجِبُ اللِّعَانَ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی ، أَنَّ الْحَدِیْثَ الَّذِی احْتَجُّوْا بِہٖ عَلَیْہِمْ ، حَدِیْثٌ مُخْتَصَرٌ ، اخْتَصَرَہُ الَّذِیْ رَوَاہُ فَغَلِطَ فِیْہِ وَاِنَّمَا أَصْلُہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَیْنَہُمَا وَہِیَ حَامِلٌ ، فَذٰلِکَ - عِنْدَنَا - لِعَانٌ بِالْقَذْفِ ، لَا لِعَانٌ بِنَفْیِ الْحَمْلِ فَتَوَہَّمَ الَّذِیْ رَوَاہُ أَنَّ ذٰلِکَ لِعَانٌ بِالْحَمْلِ ، فَاخْتَصَرَ الْحَدِیْثَ کَمَا ذَکَرْنَا وَأَصْلُ الْحَدِیْثِ فِیْ ذٰلِکَ ،
٤٥٥٨: ابو سنان (رح) کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز (رح) کو فرماتے سنا کہ نشر والے اور مکرہ (جبر والا) کی طلاق نافذ ہے۔
تخریج : مسلم فی اللعان ١٠‘ ابو داؤد فی الطلاق باب ٢٧‘ نسائی فی الطلاق باب ٣٨‘ ابن ماجہ فی الطلاق باب ٢٧‘ مسند احمد ١؍٤٢٢۔
لغات : جلد کوڑے لگانا۔ ابتلی بہ۔ مبتلا ہوا۔
امام طحاوی (رح) کا ارشاد : ایک جماعت کا مؤقف یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کے حمل کی اپنے سے نفی کرے تو قاضی ان کے درمیان اس حمل کی وجہ سے لعان کرائے گا اور وہ حمل اس کی ماں کی طرف منسوب کر دے گا اور اس عورت کو مرد سے جدا کر دے گا۔ ان کی دلیل یہ روایت ہے جس کو علقمہ نے ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حمل کی وجہ سے یہاں لعان کیا ہے امام ابو یوسف (رح) نے یہ بات فرمائی تھی مگر ان کا مشہور مسلک یہ نہیں ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : دوسرے علماء کا قول یہ ہے کہ حمل کی وجہ سے لعان نہ کیا جائے گا کیونکہ یہ بھی ممکن ہے کہ حمل نہ ہو کیونکہ جو کچھ طاہر ہو رہا ہے اور اس کے ذریعہ اس کے حاملہ ہونے کا وہم کیا جا رہا ہے اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ واقعی وہ حمل ہے وہ تو ایک وہم ہے۔ لہٰذا وہم کرنے والے کی نفی سے لعان لازم نہیں ہوتا۔
فریق اوّل کے مستدل کا جواب : جس روایت سے تم نے استدلال کیا ہے وہ مختصر ہے اس کے راوی نے اس کو مختصر کر کے اس میں غلطی کی ہے اصل روایت یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے مابین حالت حمل میں ملاعنت کرائی اور ہمارے نزدیک یہ لعان قذف کی وجہ سے ہے حمل کی نفی کرنے کی وجہ سے لعان نہ تھا راوی کو وہم ہوا کہ یہ حمل کی وجہ سے لعان ہے اس لیے اس نے روایت کو اختصار سے بیان کردیا جیسا کہ ہم نے ذکر کردیا۔