۴۵۶۸: مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَنْ أَبِیْ سَلْمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اِنَّ امْرَأَتِی وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ ، وَاِنَی أَنْکَرْتُہٗ .فَقَالَ لَہُ ہَلْ لَک مِنْ اِبِلٍ قَالَ : نَعَمْ .قَالَ مَا أَلْوَانُہَا ؟ .قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ ہَلْ فِیْہَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ قَالَ : اِنَّ فِیْہَا لَوَرَقًا .قَالَ فَأَنَّیْ تَرَیْ ذٰلِکَ جَائَ ہَا ؟ قَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، عِرْقٌ نَزَعَہَا .قَالَ فَلَعَلَّ ہٰذَا عِرْقٌ نَزَعَہُ .
٤٥٦٨: ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک دیہاتی جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا بیشک میری بیوی نے سیاہ لڑکا جنا ہے اور میں نے اس کو ناپسند کیا ہے آپ نے اس کو فرمایا کیا تیرے پاس اونٹ ہیں۔ اس نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا ان کے کیا رنگ ہیں ؟ اس نے کہا سرخ۔ آپ نے فرمایا کیا ان میں گندمی رنگ بھی ہیں اس نے جواب دیا ان میں گندم رنگ سیاہی مائل بھی ہیں۔ آپ نے فرمایا تمہارے خیال کے مطابق وہ رنگ ان میں کہاں سے آیا ؟ اس نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کسی رگ نے کھینچا ہوگا آپ نے فرمایا یہ تیرا بیٹا جو سیاہ ہے یہ بھی کسی رگ نے کھینچا ہوگا۔
تخریج : بخاری فی الطلاق باب ٢٦‘ الحدود باب ٤١‘ والاعتصام باب ١٢‘ مسلم فی اللعان ١٨؍٢٠‘ ابو داؤد فی الطلاق باب ٢٨‘ ترمذی فی الولاء باب ٤‘ نسائی فی الطلاق باب ٤٠‘ ابن ماجہ فی النکاح باب ٥٨‘ مسند احمد ٢‘ ٢٣٣؍٢٣٤‘ ٢٣٩؍٢٧٩۔