۴۵۷۶: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَّقَ بَیْنَ الْمُتَلَاعِنَیْنِ ، وَأَلْزَمَ الْوَلَدَ أُمَّہُ .قَالُوْا : فَہٰذِہِ سُنَّۃٌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ نَعْلَمْ شَیْئًا عَارَضَہَا وَلَا نَسَخَہَا .فَعِلْمنَا بِہَا أَنَّ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ لَا یَنْفِیْ أَنْ یَکُوْنَ اللِّعَانُ بِہٖ وَاجِبًا ، اِذَا نُفِیَ ، اِذْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَ ذٰلِکَ ، وَأَجْمَعَ أَصْحَابُہُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ مِنْ بَعْدِہٖ، عَلٰی مَا حَکَمُوْا فِیْ مِیْرَاثِ ابْنِ الْمُلَاعَنَۃِ ، فَجَعَلُوْھُ لَا أَبَ لَہٗ، وَجَعَلُوْھُ مِنْ قَوْمِ أُمِّہِ وَأَخْرَجُوْھُ مِنْ قَوْمِ الْمُلَاعَنِ بِہٖ .ثُمَّ اتَّفَقَ عَلٰی ذٰلِکَ تَابِعُوْھُمْ مِنْ بَعْدِہِمْ ، ثُمَّ لَمْ یَزَلْ النَّاسُ عَلٰی ذٰلِکَ اِلٰی أَنْ شَذَّ ہٰذَا الْمُخَالِفُ لَہُمْ ، فَالْقَوْلُ - عِنْدَنَا - فِیْ ذٰلِکَ عَلٰی مَا فَعَلَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ مِنْ بَعْدِہِ وَتَابِعُوْھُمْ مِنْ بَعْدِہِمْ عَلٰی مَا قَدْ ذَکَرْنَاہُ وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٤٥٧٦: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعان کرنے والوں میں تفریق کردی اور لڑکا ماں کے ساتھ لازم کردیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی معارض روایات موجود نہیں اور نہ ہی کوئی ناسخ ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ” الولد للفراش “ لعان کے واجب ہونے کی نفی نہیں کرتا جبکہ خاوند اس کی نفی کرے کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح کیا اور آپ کے بعد صحابہ کرام (رض) نے اس بات پر اجماع کیا کہ انھوں نے لعان کرنے والی عورت کے بچے کے لیے میراث کے سلسلے میں اسے باب کے بغیر قرار دیا اور اسے ماں کی قوم کا فرد قرار دیا اور لعان کرنے والے کی قوم سے اس کو خارج کردیا پھر ان کے بعد تابعین (رض) نے بھی اسی بات پر اتفاق کیا۔ پھر بعد والے لوگوں نے مسلسل اس پر عمل کیا۔ حتیٰ کہ اس مخالفت نے ان سے علیحدگی اختیار کی۔ ہمارے نزدیک اس سلسلے میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے بعد صحابہ کرام (رض) اور تابعین (رض) کے عمل کے مطابق قول کیا جائے گا جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔ حضرت امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ومحمد (رض) کا یہی قول ہے۔
تخریج : بخاری فی تفسیر سورة ٢٤‘ باب ٤‘ ابو داؤد فی الطلاق باب ٢٧‘ دارمی فی النکاح باب ٣٩۔