۴۵۷۹: حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَنْ أَعْتَقَ جُزْئً ا لَہٗ مِنْ عَبْدٍ أَوْ أَمَۃٍ ، حُمِلَ عَلَیْہِ مَا بَقِیَ فِیْ مَالِہٖ ، حَتّٰی یَعْتِقُ کُلُّہُ جَمِیْعًا قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْعَبْدَ اِذَا کَانَ بَیْنَ رَجُلَیْنِ ، فَأَعْتَقَ أَحَدُہُمَا نَصِیْبَہٗ، ضَمِنَ قِیْمَۃَ نَصِیْبِ شَرِیْکِہِ مُوْسِرًا کَانَ أَوْ مُعْسِرًا وَقَالُوْا : قَدْ جُعِلَ الْعَتَاقُ مِنِ الشَّرِیْکِ ، جِنَایَۃً عَلٰی نَصِیْبِ شَرِیْکِہٖ، یَجِبُ عَلَیْہِ بِہَا ضَمَانُ قِیْمَتِہِ فِیْ مَالِہٖ ، وَکَأَنَّ مَنْ جَنَیْ عَلَی مَالٍ لِرَجُلٍ وَہُوَ مُوْسِرٌ أَوْ مُعْسِرٌ ، وَجَبَ عَلَیْہِ ضَمَانُ مَا أَتْلَفَ بِجِنَایَتِہٖ، وَلَمْ یَفْتَرِقْ حُکْمُہٗ فِیْ ذٰلِکَ اِنْ کَانَ مُوْسِرًا أَوْ مُعْسِرًا ، فِیْ وُجُوْبِ الضَّمَانِ عَلَیْہِ قَالُوْا : فَکَذٰلِکَ لَمَّا وَجَبَ عَلَی الشَّرِیْکِ ضَمَانُ قِیْمَۃِ نَصِیْبِ شَرِیْکِہِ لِعَتَاقِہٖ، لَمَّا کَانَ مُوْسِرًا ، وَجَبَ عَلَیْہِ ضَمَانُ ذٰلِکَ أَیْضًا اِذَا کَانَ مُعْسِرًا .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا یَجِبُ الضَّمَانُ عَلَیْہِ لِقِیْمَۃِ نَصِیْبِ شَرِیْکِہِ لِعَتَاقِہِ اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ مُوْسِرًا وَقَالُوْا : حَدِیْثُ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ہٰذَا، اِنَّمَا الضَّمَانُ الْمَذْکُوْرُ فِیْہِ، عَلَی الْمُوْسِرِ خَاصَّۃً ، دُوْنَ الْمُعْسِرِ ، قَدْ بُیِّنَ ذٰلِکَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِیْ غَیْرِ ہٰذِہِ الْآثَارِ فَمَا رُوِیَ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ ،
٤٥٧٩: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا جس شخص نے اپنے غلام یا لونڈی کا کوئی حصہ آزاد کردیا اس کا بقیہ مال (یعنی قیمت) اس پر ڈال دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ غلام مکمل آزاد ہوجائے گا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جب ایک غلام دو آدمیوں میں مشترک ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے تو وہ اپنے شریک کے حصہ کے مطابق قیمت کا ضامن ہوگا خواہ وہ مالدار ہو یا تنگ دست نیز یہ کہ ایک شریک کی طرف سے غلام کو آزاد کرنا دوسرے شریک کے حصہ میں جنایت و جرم قرار دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کے مال میں شریک کے حصہ کے مطابق قیمت کا ضمان ہوتا ہے اور جو آدمی کسی کے مال کو نقصان پہنچاتا ہے وہ مالدار ہو یا تنگدست اس پر اس چیز کی ضمان لازم آتی ہے جس مال کو اس نے جنایت کر کے ضائع کیا اور ان کے ہاں وجوب ضمان کے سلسلہ میں تنگدست اور مالدار میں کوئی فرق نہیں ہے وہ فرماتے ہیں کہ اسی طرح جب غلام آزاد کرنے کی وجہ سے ایک شریک پر دوسرے شریک کے حصہ کی قیمت بطور ضمان اس کے مالدار ہونے کی صورت میں لازم ہوتی ہے تو تنگدستی کی حالت میں بھی اسی طرح واجب ہوتی ہے۔ ان سے اختلاف کرتے ہوئے دوسرے علماء کہتے ہیں کہ آزادی کی صورت میں شریک کے حصہ کی قیمت اسی صورت میں لازم ہوگی جب وہ خوش حال ہو۔ انھوں نے کہا کہ روایت ابن عمر (رض) میں مذکورہ ضمان خوش حال ہونے کی حالت میں مذکور ہے تنگ دست ہونے کی حالت اس میں داخل نہیں اور یہ بات ہم اپنی طرف سے نہیں کر رہے ہیں بلکہ خود ابن عمر (رض) کی دوسری روایت میں مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو۔
امام طحاوی (رح) کا قول : بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جب ایک غلام دو آدمیوں میں مشترک ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے تو تو وہ اپنے شریک کے حصہ کے مطابق قیمت کا ضامن ہوگا خواہ وہ مالدار ہو یا تنگ دست نیز یہ کہ ایک شریک کی طرف سے غلام کو آزاد کرنا دوسرے شریک کے حصہ میں جنایت و جرم قرار دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کے مال میں شریک کے حصہ کے مطابق قیمت کا ضمان ہوتی ہے اور جو آدمی کسی کے مال کو نقصان پہنچاتا ہے وہ مالدار ہو یا تنگدست اس پر اس چیز کی ضمان لازم آتی ہے جس مال کو اس نے جنایت کر کے ضائع کیا اور ن کے ہاں وجوب ضمان کے سلسلہ میں تنگدست اور مالدار میں کوئی فرق نہیں ہے وہ فرماتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ اسی طرح جب غلام آزاد کرنے کی وجہ سے ایک شریک پر دوسرے شریک کے حصہ کی قیمت بطور ضمان اس کے مالدار ہونے کی صورت میں لازم ہوتی ہے تو تنگدستی کی حالت میں بھی اسی طرح واجب ہوتی ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : دوسرے علماء کہتے ہیں کہ آزادی کی صورت میں شریک کے حصہ کی قیمت اسی صورت میں لازم ہوگی جب وہ خوش حال ہو۔
فریق اوّل کے مؤقف کا جواب : روایت ابن عمر (رض) میں مذکورہ ضمان خوش حال ہونے کی حالت میں مذکور ہے تنگ دست ہونے کی حالت اس میں داخل نہیں اور یہ بات ہم اپنی طرف سے نہیں کر رہے ہیں بلکہ خود ابن عمر (رض) کی دوسری روایت میں مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو۔