۴۵۹۱: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ : ثَنَا الْحُمَیْدِیُّ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ عَرُوْبَۃَ ، وَیَحْیَی بْنِ صُبَیْحٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ فَکَانَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ ، فِیْہِ مَا فِیْ حَدِیْثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ، وَفِیْہِ وُجُوْبُ السِّعَایَۃِ عَلَی الْعَبْدِ ، اِذَا کَانَ مُعْتِقُہُ مُعْسِرًا .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ،
٤٥٩١: سعید بن ابی عروبہ اور یحییٰ بن صبیح نے قتادہ سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے۔ اس روایت کا مضمون ابن عمر (رض) کی روایت کے مضمون سے ملتا جلتا ہے اس میں یہ ہے کہ غلام پر کمائی لازم ہے جبکہ اس کا آزاد کرنے والا تنگ دست ہو اور جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مزید روایات بھی ہیں۔
حاصل روایت : اس روایت کا مضمون ابن عمر (رض) کی روایت کے مضمون سے ملتا جلتا ہے اس میں یہ ہے کہ غلام پر کمائی لازم ہے جبکہ اس کا آزاد کرنے والا تنگ دست ہو۔
اور جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مزید روایات بھی ہیں۔