hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4597

.

الطحاوي

4597
Al Tahawi
۴۵۹۷: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ سُہَیْلٍ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ مَنْ مَلَکَ أَبَاہٗ، لَمْ یَعْتِقْ عَلَیْہِ، حَتَّی یُعْتِقَہُ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : یَعْتِقُ عَلَیْہِ بِمِلْکِہِ اِیَّاہُ وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ ، أَنَّ قَوْلَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہٰذَا، یَحْتَمِلُ مَا قَالُوْا ، وَیَحْتَمِلُ فَیَشْتَرِیَہُ فَیُعْتِقَہُ بِشِرَائِہِ ہَذَا فِی الْکَلَامِ صَحِیْحٌ وَہُوَ أَوْلَی مَا حُمِلَ عَلَیْہِ، ہٰذَا الْحَدِیْثُ ، حَتّٰی یَتَّفِقَ ہُوَ وَغَیْرُہٗ، مِمَّا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْمَعْنَی .
٤٥٩٧: زہیر بن معاویہ نے سہیل سے پھر اس نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ اگر کوئی جو شخص اپنے باپ کا مالک بن جائے تو وہ اس پر آزاد نہ ہوگا جب تک کہ وہ خود آزاد نہ کرے۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالک بنتے ہی وہ خودبخود آزاد ہوجائے گا۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد ” فیشتریہ فیعتقہ “ اس میں دو احتمال ہیں۔ ایک جو آپ نے ذکر کیا۔ دوسرا احتمال یہ ہے پس وہ اس کو خریدے پس وہ اس کے خریدنے سے آزاد ہوجائے گا کلام کے اعتبار سے یہ درست ہے اور اسی معنی پر محمول کرنے سے یہ روایت دیگر روایات کے موافق ہوجائے گی جو اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہیں۔ اس معنی کی مستدل روایات یہ ہیں۔
امام طحاوی (رح) کا ارشاد : علماء کی ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ شخص اپنے باپ کا مالک بن جائے وہ اس پر آزاد نہ ہوگا جب تک کہ وہ خود آزاد نہ کرے۔
فریق ثانی کا مؤقف : مالک بنتے ہی وہ خودبخود آزاد ہوجائے گا۔
فریق اوّل کی دلیل کا جواب : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد ” فیشتریہ فیعتقہ “ اس میں دو احتمال ہیں۔ ایک جو آپ نے ذکر کیا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ وہ اس کو خریدے پس وہ اس کے خریدنے سے آزاد ہوجائے گا کلام کے اعتبار سے یہ درست ہے اور اسی معنی پر محمول کرنے سے یہ روایت دیگر روایات کے موافق ہوجائے گی جو اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہیں۔
فریق ثانی کی مستدل روایات آگے ملاحظہ ہوں۔