۴۶۱۰: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی الْحَجَّاجُ الصَّوَافُّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ عِکْرَمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوْدَی الْمُکَاتَبُ بِقَدْرِ مَا أَدَّی - دِیَۃَ الْحُرِّ ، وَبِقَدْرِ مَا رَقَّ مِنْہُ - دِیَۃَ الْعَبْدِ قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْمُکَاتَبَ یَعْتِقُ مِنْہٗ، بِقَدْرِ مَا أَدَّی ، وَیَکُوْنُ حُکْمُہٗ فِیْہِ حُکْمَ الْحُرِّ ، وَیَکُوْنُ حُکْمُہٗ فِیْمَا لَمْ یُؤَدِّ ، حُکْمَ الْعَبْدِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا یَعْتِقُ الْمُکَاتَبُ اِلَّا بِأَدَائِ جَمِیْعِ الْکِتَابَۃِ. وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٤٦١٠: عکرمہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مکاتب مقتول کی دیت اس طرح ہوگی کہ جس قدر آزد ہوا اتنی آزاد کی دیت اور جس قدر غلام ہے اسی قدر غلام کی دیت دی جائے گی۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ مکاتب جس قدر بدل کتابت ادا کرے اس کا اتنا حصہ آزاد ہوجائے گا اور اس حصہ میں اس کا حکم آزاد کی طرح ہوگا اور جس قدر بدل کتابت ادا نہیں کیا گیا اس میں اس کا حکم غلام جیسا ہے۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایت کو مستدل بنایا ہے۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ مکاتب جب تک بدل کتابت ادا نہ کرے وہ غلام ہے وہ اس وقت آزاد ہوگا جب تمام بدل کتابت ادا کر دے گا اس کی دلیل مندرجہ ذیل روایت ہے۔
تخریج : روایت ٤٦٠٧ کی تخریج ملاحظہ کرلیں۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : علامء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ مکاتب جس قدر بدل کتابت ادا کرے اس کا اتنا حصہ آزاد ہوجائے گا اور اس حصہ میں اس کا حکم آزاد کی طرح ہوگا اور جس قدر بدل کتابت ادا نہیں کیا گیا اس میں اس کا حکم غلام جیسا ہے۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایت کو مستدل بنایا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : مکاتب جب تک بدل کتابت ادا نہ کرے وہ غلام ہے وہ اس وقت آزاد ہوگا جب تمام بدل کتابت ادا کر دے گا اس کی دلیل مندرجہ ذیل روایت ہے۔