۴۶۲۵: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ أَبِیْہَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، قَالَ : مَا بَالُ رِجَالٍ یَطَئُوْنَ وَلَائِدَہُمْ ، ثُمَّ یَعْزِلُوْنَہُنَّ لَا تَأْتِینِیْ وَلِیْدَۃٌ یَعْتَرِفُ سَیِّدُہَا أَنْ قَدْ أَلَمَّ بِہَا اِلَّا قَدْ أَلْحَقْتُ بِہٖ وَلَدَہَا ، فَاعْزِلُوْا أَوْ اُتْرُکُوْا .
٤٦٢٥: سالم بن عبداللہ نے اپنے والد سے انھوں نے عمر (رض) سے نقل کیا کہ وہ فرماتے تھے لوگوں کا کیا حال ہے جو کہ لونڈیوں سے وطی کرتے ہوئے عزل کرلیتے ہیں میرے پاس جو لونڈی لائی جائے گی جس کا آقا یہ اعتراف کرے گا کہ اس نے اس سے جماع کیا ہے میں اس کے لڑکے کو اس سے ملا دوں گا۔ اب تم عزل کرو یا نہ کرو (تمہاری مرضی ہے)
تخریج : موطا مالک فی اقضیہ ٢٤؍٢٥۔