hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4634

.

الطحاوي

4634
Al Tahawi
۴۶۳۴: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ ، قَالَ : ثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِیْ سَلْمَۃَ ، عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنِّیْ وَقَعْتُ بِأَہْلِیْ فِیْ رَمَضَانَ قَالَ لَہٗ أَعْتِقْ رَقَبَۃً قَالَ : مَا أَجِدُہَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ فَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ قَالَ : مَا أَسْتَطِیْعُ ، قَالَ فَأَطْعِمْ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا قَالَ : مَا أَجِدُہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ : فَأَتَی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِکْتَلٍ فِیْہِ قَدْرُ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا تَمْرًا ، فَقَالَ خُذْہَا فَتَصَدَّقْ بِہٖ قَالَ : أَعَلٰی أَحْوَجَ مِنِّیْ وَأَہْلِ بَیْتِیْ؟ قَالَ فَکُلْہُ أَنْتَ وَأَہْلُ بَیْتِکَ، وَصُمْ یَوْمًا مَکَانَہٗ، وَاسْتَغْفِرْ اللّٰہَ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ رَحِمَہُ اللّٰہُ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْاِطْعَامَ فِیْ کَفَّارَاتِ الْأَیْمَانِ اِنَّمَا ہُوَ مُدٌّ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ ، لِأَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الرَّجُلَ فِی الْحَدِیْثِ الَّذِیْ ذٰکَرْنَا ، أَنْ یُطْعِمَ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا ، خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا ، فَاَلَّذِیْ یُصِیْبُ کُلَّ مِسْکِیْنٍ مِنْہُمْ ، مُدٌّ مُدٌّ قَالُوْا : وَقَدْ ذَہَبَ جَمَاعَۃٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِیْ کَفَّارَاتِ الْأَیْمَانِ اِلَی مَا قُلْنَا .فَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ
٤٦٣٤: ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی عرض کرنے لگایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے رمضان (کے دن) میں اپنی بیوی سے جماع کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک گردن آزاد کر دو ۔ اس نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے پاس نہیں ہے آپ نے فرمایا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔ اس نے کہا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا دو ۔ اس نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ راوی کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کے برابر کھجوریں تھیں پس آپ نے فرمایا اس کو لے کر صدقہ کر دو ۔ اس نے کہا کیا اپنے اور اپنے گھر والوں سے زیادہ محتاج پر صدقہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا پھر تم اور تمہارے گھر والے ان کو کھالیں اور اس کی بجائے ایک دن کا روزہ رکھو اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو۔ علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ کفارہ قسم میں ہر مسکین کے لیے ایک مد کھانا ہے کیونکہ اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو حکم فرمایا کہ ساٹھ مساکین کو پندرہ صاع کھانا دے تو اس حساب سے ہر مسکین کو ایک ایک مد ملے گا اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کفارہ قسم میں اسی بات کو اختیار کرنے والی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے۔
تخریج : بخاری فی الصیام باب ٣٠‘ والہبۃ باب ١١‘ والنفقات باب ١٣‘ والکفارات باب ٢‘ ٤‘ مسلم فی الصوم ٨١‘ ابو داؤد فی الصوم باب ٣٧‘ ترمذی فی الصوم باب ٢٨‘ ابن ماجہ فی الصیام باب ١٤‘ مسند احمد ٢؍٢٤١۔
امام طحاوی (رح) کا قول : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ کفارہ قسم میں ہر مسکین کے لیے ایک مد کھانا ہے کیونکہ اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو حکم فرمایا کہ ساٹھ مساکین کو پندرہ صاع کھانا دے تو اس حساب سے ہر مسکین کو ایک ایک مد ملے گا اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کفارہ قسم میں اسی بات کو اختیار کرنے والی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے۔
لغات : کفارات جمع کفارہ۔ یہ گناہ گار کے گناہ کو ڈھانپ لیتا ہے اس لیے اس کو کفارہ کہتے ہیں اس کے متعلق علماء کے مندرجہ ذیل مؤقف ہیں۔
فریق اوّل : ہر مسکین کو ایک مد غلہ وغیرہ دیا جائے گا اس کی دلیل یہ روایت ہے جو آئندہ سطور میں مذکور ہے۔