hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4661

.

الطحاوي

4661
Al Tahawi
۴۶۶۱: حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ ، قَالَ : ثَنَا حُسَیْنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِیْ کَفَّارَۃِ الْیَمِیْنِ ، قَالَ : نِصْفُ صَاعٍ مِنْ حِنْطَۃٍ .وَہٰذَا خِلَافُ مَا رَوَیْنَا ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی الْفَصْلِ الَّذِیْ قَبْلَ ہَذَا .فَہٰذَا عُمَرُ ، وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، قَدْ جَعَلَا الْاِطْعَامَ فِیْ کَفَّارَاتِ الْأَیْمَانِ مِنَ الْحِنْطَۃِ مُدَّیْنِ مُدَّیْنِ ، لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ ، وَمِنِ الشَّعِیْرِ وَالتَّمْرِ ، صَاعًا صَاعًا ، فَکَذٰلِکَ نَقُوْلُ .وَکَذٰلِکَ کُلُّ اِطْعَامٍ فِیْ کَفَّارَۃٍ أَوْ غَیْرِہَا ، ہَذَا مِقْدَارُہٗ، عَلٰی مَا أُجْمِعَ مِنْ کَفَّارَۃِ الْأَدْنَی .وَقَدْ شَدَّ ذٰلِکَ أَیْضًا مَا قَدْ بَیَّنَّاہُ فِیْ کِتَابِ صَدَقَۃِ الْفِطْرِ ، مِنْ مِقْدَارِہَا ، وَمَا ذَکَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِہٖ مِنْ بَعْدِہِ وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ .
٤٦٦١: مجاہد نے ابن عباس (رض) سے قسم کے کفارہ کے سلسلہ میں ذکر کیا کہ نصف صاع گندم ہے۔ یہ روایت اس کے خلاف ہے جو ہم ابتداء باب میں ابن عباس (رض) سے نقل کر آئے یہ حضرت عمر (رض) اور علی (رض) ہیں کہ انھوں نے قسم کے کفارات میں گندم دو دو مد ہر مسکین کے لیے ذکر کی اور جو اور کھجور ایک ایک صاع بتلایا ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں۔ ہر اطعام جو کفارہ یا غیر کفارہ میں ہو وہ اسی مقدار سے ہوگا اور کم از کم مقدار فدیہ جس پر اجماع ہے وہ یہی ہے پہلے باب صدقۃ الفطر میں ہم نے اس کو دلائل سے خوب پختہ کردیا اور وہاں ہم نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام سے بھی اس کو ثابت کردیا۔ یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
حاصل روایت : یہ روایت اس کے خلاف ہے جو ہم ابتداء باب میں ابن عباس (رض) سے نقل کر آئے یہ حضرت عمر (رض) اور علی (رض) ہیں کہ انھوں نے قسم کے کفارات میں گندم دو دو مد ہر مسکین کے لیے ذکر کی اور جو اور کھجور ایک ایک صاع بتلایا ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں۔ ہر اطعام جو کفارہ یا غیر کفارہ میں ہو وہ اسی مقدار سے ہوگا اور کم از کم مقدار فدیہ جس پر اجماع ہے وہ یہی ہے پہلے باب صدقۃ الفطر میں ہم نے اس کو دلائل سے خوب پختہ کردیا اور وہاں ہم نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام سے بھی اس کو ثابت کردیا۔ یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔