۴۶۶۳: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا ہِشَامُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الدِّمَشْقِیُّ ، قَالَ : ثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ أَبِیْ یَعْقُوْبَ قَالَ : تَذَاکَرْنَا عِنْدَ أَبِی الضُّحَی الشَّہْرَ .فَقَالَ بَعْضُنَا : تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ ، وَقَالَ بَعْضُنَا : ثَلَاثُوْنَ .قَالَ أَبُو الضُّحَی : حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ : أَصْبَحْنَا یَوْمًا وَنِسَائُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَبْکِیْنَ ، عِنْدَ کُلِّ امْرَأَۃٍ مِنْہُنَّ أَہْلُہَا .فَجَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَصَعِدَ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ فِیْ غُرْفَۃٍ لَہٗ، فَسَلَّمَ عَلَیْہِ فَلَمْ یُجِبْہُ أَحَدٌ ، ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ یُجِبْہُ أَحَدٌ ، فَلَمَّا رَأَیْ ذٰلِکَ ، انْصَرَفَ .فَدَعَاہُ بِلَالٌ ، فَدَخَلَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَطَلَّقْت نِسَائَ ک ؟ قَالَ : لَا ، وَلٰـکِنْ آلَیْتُ مِنْہُنَّ شَہْرًا فَمَکَثَ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ لَیْلَۃً ، ثُمَّ نَزَلَ ، فَدَخَلَ عَلَی نِسَائِہِ .
٤٦٦٣: ہشام بن اسماعیل دمشقی کہتے ہیں کہ ہمیں مروان بن معاویہ نے ابو یعقوب سے بیان کیا کہ ہم نے ابوالضحیٰ کے پاس مہینے کے متعلق مذاکرہ کیا ہم میں سے بعض نے کہا انتیس یوم بعض نے تیس دن بتلائے۔ ابوالضحیٰ کہنے لگے ہمیں ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ ایک صبح کو ہم نے دیکھا کہ ازواج مطہرات رو رہیں تھیں اور ہر زوجہ محترمہ کے عزیزواقارب اس کے پاس تھے۔ اتنے میں عمر (رض) آگئے وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اوپر کے کمرے میں حاضر ہوئے انھوں نے آپ کو سلام کیا مگر ان کو کسی نے جواب نہ دیا انھوں نے پھر سلام کیا مگر ان کو کسی نے جواب نہ دیا۔ جب انھوں نے یہ صورت حال دیکھی تو وہ واپس لوٹے۔ تو اسی وقت ان کو بلال (رض) نے بلا لیا۔ پس عمر (رض) خدمت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں پہنچے۔ تو عمر (رض) نے سوال کیا کیا آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ لیکن میں نے ایک ماہ کے لیے ان کے گھر نہ جانے کی قسم اٹھالی ہے چنانچہ آپ نے انتیس راتیں اپنے بالا خانے میں قیام فرمایا اور پھر ازواج کے ہاں تشریف لائے۔
تخریج : بخاری فی العلم باب ٢٧‘ المظالم باب ٦٥‘ النکاح باب ٨٣‘ مسلم فی الطلاق ٣٤۔