۴۶۷۶: مَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا ہَارُوْنُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ ، عَنْ أَبِیْ سَلْمَۃَ ، عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ حَدَّثَہٗ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ الشَّہْرَ یَکُوْنُ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ ، وَیَکُوْنُ ثَلَاثِیْنَ ، وَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُ فَصُوْمُوْا ، وَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُ فَأَفْطِرُوْا ، فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ ، فَأَکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ .فَأَخْبَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ اِنَّمَا یَکُوْنُ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ بِرُؤْیَۃِ الْہِلَالِ قَبْلَ الثَّلَاثِیْنَ .فَقَدْ دَلَّتْ ہٰذِہِ الْآثَارُ ، لِمَا کَشَفْتُ عَمَّا ذَکَرْنَا .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ .وَقَدْ رُوِیَ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنِ الْحَسَنِ۔
٤٦٧٦: ابو سلمہ نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مہینہ کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی تیس دن کا ہوتا ہے پس جب تم چاند کو دیکھ لو۔ تو روزہ رکھو اور جب تم چاند کو دیکھ لو تو افطار کرلو پھر اگر چاند چھپ جائے تو گنتی کو پورا کرلو۔ اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اطلاع دی ہے کہ انتیس دن کا مہینہ تیس یوم سے پہلے چاند دیکھنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ (ورنہ گنتی میں تو تیس کا شمار کیا جائے گا) اس آثار سے دلالت مل گئی کہ جو بات ہم نے بیان کی وہ درست ہے اور یہ قول امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا ہے اور حضرت حسن بصری (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
تخریج : بخاری فی الصوم باب ١١‘ مسلم فی الصیام ٣٠‘ نسائی فی الصیام باب ١٢؍١٣‘ ١٧؍٣٧‘ دارمی فی الصوم باب ١؍٢ مسند احمد ٢‘ ٤٢٢؍٤٣٠۔
حاصل روایت : اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اطلاع دی ہے کہ انتیس دن کا مہینہ تیس یوم سے پہلے چاند دیکھنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ (ورنہ گنتی میں تو تیس کا شمار کیا جائے گا)
اس آثار سے دلالت مل گئی کہ جو بات ہم نے بیان کی وہ درست ہے اور یہ قول امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا ہے اور حضرت حسن بصری (رح) کا بھی یہی قول ہے۔