۴۶۸ : حَدَّثَنَا صَالِحٌ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدٌ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ قَالَ : أَنَا حُمَیْدُ ڑالطَّوِیْلُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ مِثْلَہٗ .فَإِنْ کَانَ یَجِبُ فِیْ مِثْلِ ھٰذَا تَقْلِیْدُ ابْنِ عُمَرَ، فَتَقْلِیْدُ مَنْ ذَکَرْنَا، أَوْلٰی مِنْ تَقْلِیْدِ ابْنِ عُمَرَ .وَقَدْ رُوِیَ ذٰلِکَ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَالْحَسَنِ .
٤٦٨: حسن بن عمران بن حصین (رض) سے اسی کی مثل روایت نقل کی ہے۔ اب آپ فرمائیں کہ اگر اس قسم کے مسائل میں ابن عمر (رض) کی تقلید لازم ہے تو جن صحابہ کرام (رض) کا ہم نے ذکر کیا ان کی تقلید ابن عمر (رض) سے زیادہ بہتر ہے اور تابعین (رح) یہی فرماتے ہیں ‘ ملاحظہ ہو۔
تخریج : طبرانی کبیر ٩؍٢٤٨‘
لطیفہ : اگر آپ نے اس سلسلہ میں ابن عمر (رض) کی تقلید کرنا ہے تو پھر ان حضرات کی تقلید ان سے اولیٰ ہے پس ان کی روایت کو چھوڑ کر اس جم غفیر کی روایات کو لینا چاہیے۔
سعید بن مسیب (رح) کے قول کا جواب :
حضرت سعید بن المسیب کو فریق اوّل کا حامی سمجھا جاتا ہے یہاں ان کا فتویٰ نقل کر کے اس کی تردید کی گئی ہے اثر ملاحظہ ہو۔