۴۷۰۳: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عِیْسَی بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ أَبِیْ مَنْصُوْرٍ عَنْ دُخَیْنٍ الْحَجْرِیِّ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ : نَذَرَتْ أُخْتِیْ أَنْ تَمْشِیَ اِلَی الْکَعْبَۃِ حَافِیَۃً حَاسِرَۃً .فَأَتٰی عَلَیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا بَالُ ہٰذِہٖ؟ قَالُوْا : نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِیَ اِلَی الْکَعْبَۃِ حَافِیَۃً حَاسِرَۃً .فَقَالَ : مُرُوْہَا فَلْتَرْکَبْ وَلْتَخْتَمِرْ . قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ رَحِمَہُ اللّٰہُ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہٰذِہِ الْآثَارِ فَقَالُوْا : مَنْ نَذَرَ أَنْ یَحُجَّ مَاشِیًا أُمِرَ أَنْ یَرْکَبَ وَلَا شَیْئَ عَلَیْہِ غَیْرُ ذٰلِکَ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : یَرْکَبُ کَمَا جَائَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ فَاِنْ کَانَ أَرَادَ بِقَوْلِہٖ لِلّٰہِ عَلَیَّ مَعْنَی الْیَمِیْنِ فَعَلَیْہِ مَعَ ذٰلِکَ ، کَفَّارَۃُ یَمِیْنٍ لِأَنَّ مَعْنَی لِلّٰہِ عَلَیَّ قَدْ یَکُوْنُ فِیْ مَعْنَی وَاللّٰہِ لِأَنَّ النَّذْرَ مَعْنَاہُ مَعْنَی الْیَمِیْنِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ فِی النَّذْرِ کَفَّارَۃَ یَمِیْنٍ .فَمِمَّا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ
٤٧٠٣: دخین الحجری نے عقبہ بن عامر جہنی (رض) سے روایت کی ہے کہ میری بہن نے نذر مانی کہ وہ ننگے سر اور ننگے پاؤں بیت اللہ جائے گی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے ہاں تشریف لائے اور دریافت فرمایا اسے کیا ہے انھوں نے بتلایا کہ اس نے کعبہ تک ننگے سر ننگے پاؤں چلنے کی نذر مانی ہے۔ ارشاد فرمایا۔ اس کو کہو کہ سوار ہوجائے اور دوپٹہ پہنے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ جس آدمی نے یہ نذر مان لی کہ وہ پیدل حج کرے گا تو اسے سوار ہونے کا حکم ہوگا اس کے علاوہ اس پر کوئی چیز لازم نہیں۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اسے یہ چاہیے کہ وہ سوار ہوجائے جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا۔ اب اگر اللہ علی سے قسم مقصود تھی تو اس کے ذمہ قسم کا کفارہ بھی ہوگا کیونکہ بعض اوقات یہ الفاظ قسم کے لیے آتے ہیں کیونکہ نذر و قسم کا ایک ہی مطلب ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلہ میں حدیث مروی ہے کہ ان فی النذر کفارۃ یمین کہ نذر میں قسم کا کفارہ ہے چند روایات یہ ہیں۔
تخریج : ترمذی فی النذور باب ١٧‘ باختلاف یسیر من اللفظ و لتختمر۔
لغات : حاسرۃ۔ ننگے سر بلادوپٹے کے ہونا۔ حافیہ۔ ننگے پاؤں ہونا۔
امام طحاوی (رح) کا قول : بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ جس آدمی نے یہ نذر مان لی کہ وہ پیدل حج کرے گا تو اسے سوار ہونے کا حکم ہوگا اس کے علاوہ اس پر کوئی چیز لازم نہیں۔
فریق ثانی کا مؤقف : یہ ہے کہ وہ سوار ہوجائے جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا۔ اب اگر اللہ علی سے قسم مقصود تھی تو اس کے ذمہ قسم کا کفارہ بھی ہوگا کیونکہ بعض اوقات یہ الفاظ قسم کے لیے آتے ہیں کیونکہ نذر و قسم کا ایک ہی مطلب ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلہ میں حدیث مروی ہے کہ ان فی النذر کفارۃ یمین کہ نذر میں قسم کا کفارہ ہے چند روایات یہ ہیں۔