۴۷۲ : حَدَّثَنَا صَالِحٌ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدٌ، قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ قَالَ : أَنَا یُوْنُسُ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہٗ کَانَ لَا یَرٰی فِیْ مَسِّ الذَّکَرِ وُضُوْئً ا .فَبِھٰذَا نَأْخُذُ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی ۔
٤٧٢: یونس نے حسن سے نقل کیا کہ وہ شرمگاہ کو چھو لینے پر وضو کو لازم قرار نہ دیتے تھے۔ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور وہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد بن الحسن (رح) کا قول ہے۔
تخریج : عبدالرزاق ١؍١٢٠
حاصل کلام : چار آثار اور چودہ روایات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ شرمگاہ کو ہاتھ لگنے سے نہ وضو ٹوٹتا ہے اور نہ نئے سرے سے کرنا پڑتا ہے جمہور صحابہ وتابعین کا یہی مسلک ہے اسی کو ہمارے ائمہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد (رح) نے اختیار فرمایا ہے۔
نوٹ : اس باب میں طحاوی (رح) نے سابقہ طرز کے خلاف ہر روایت کا جواب ساتھ ساتھ دیا ہے ورنہ عام طرز فریق مخالف کا تذکرہ بمعہ روایات کرتے ہیں پھر فریق ثانی کی طرف سے دلائل و جوابات دیتے ہیں لیکن یہاں ہر روایت کا جواب ساتھ ساتھ ہی نبٹاتے گئے ہیں۔
` بَابُ ” الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ “ کَمْ وَقْتُہٗ لِلْمُقِیْمِ وَالْمُسَافِرِ `
مقیم و مسافر کے لیے موزوں پر مسح کا حکم
خلاصہ الزام : مسح علی الخفین جمہور فقہاء و محدثین کے ہاں تو علامت اہل سنت ہے روافض کے ہاں جائز نہیں اور یہ موزے کے اعلیٰ حصہ پر کیا جائے گا موزے پر مسح جائز ہے اور جو ربین ثخینین یا چمڑے کے تلے والے موزے پر درست ہے موزے پر موزہ معمولی پھٹا ہوا ہو تو مسح درست ہے موزے کا پاک ہونا ضروری ہے اور نواقض وضو اس کے بھی نواقض ہیں اور پاؤں کا موزے سے نکلنا بھی اس کو توڑ دیتا ہے مدت مسح امام مالک کے ہاں مقرر نہیں دیگر تمام ائمہ مسافر کے لیے تین دن رات اور مقیم کے لیے ایک دن رات کے قائل ہیں۔
یہاں مسح کی مدت پر بحث ہوگی
اور بس امام مالک (رح) وغیرہ دیگر علماء کی مستدل روایات و آثار۔