۴۷۳۲: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ وَمَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ وَزَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ قَالَا : کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَہٗ۔قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْبِکْرَ اِذَا زَنَی ، فَعَلَیْہِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَتَغْرِیْبُ عَامٍ جَمِیْعًا ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ، بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : حَدُّ الْبِکْرِ اِذَا زَنَیْ جَلْدُ مِائَۃٍ وَلَا نَفْیَ عَلَیْہِ مَعَ الْجَلْدِ اِلَّا أَنْ یَرَی الْاِمَامُ أَنْ یَنْفِیَہُ لِلدِّعَارَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ مِنْہُ فَیَنْفِیْہِ اِلَیْ حَیْثُ أَحَبَّ کَمَا یُنْفَی الدُّعَّارُ وَغَیْرُ الزُّنَاۃِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا
٤٧٣٢: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے ابوہریرہ (رض) اور زید بن خالد جہنی (رض) دونوں سے روایت کی ہے کہ ہم جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بیٹھے تھے پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کنوارہ اگر زنا کرے تو اس پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے دونوں سزائیں ہوں گی اور انھوں نے مذکورہ بالا روایات کو مستدل بنایا ہے۔ دوسروں نے کہا کہ کنوارہ اگر زنا کرے تو سو کوڑے فقط حد ہے اور جلا وطنی اس کے ساتھ سزا نہیں اگر حاکم مناسب خیال کرے تو فسق کی وجہ سے جو اس سے صادر ہو اس کو جہاں مناسب ہو جلا وطن کر دے جیسا کہ فساق اور زانیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کو جلا وطن کیا جاتا ہے۔ ان کی دلیل یہ روایات ہیں۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ کنوارہ اگر زنا کرے تو اس پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے دونوں سزائیں ہوں گی اور انھوں نے مذکورہ بالا روایات کو مستدل بنایا ہے۔