۴۷۴۳: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ الْوَاسِطِیُّ قَالَ : ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَیَّاشٍ قَالَ : ثَنَا الْأَوْزَاعِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ عَبْدَہُ مُتَعَمِّدًا فَجَلَدَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِائَۃً ، وَنَفَاہُ سَنَۃً وَمَحَا أَرَاہُ سَہْمَہٗ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَأَمَرَہٗ أَنْ یَعْتِقَ رَقَبَۃً .فَلَمْ یَکُنْ مَا فَعَلَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا مِنْ نَفْیِہِ الْقَاتِلَ سَنَۃً دَلِیْلًا عِنْدَنَا وَلَا عِنْدَکَ، عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ حَدٌّ وَاجِبٌ لَا یَنْبَغِیْ تَرْکُہُ .وَاِنْ کَانَ عَلٰی أَنَّہٗ لِلدِّعَارَۃِ لَا لِأَنَّہٗ حَدٌّ .فَمَا تُنْکِرُ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ مَا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَمَرَ بِہٖ ، مِنْ نَفْیِ الزَّانِیْ، عَلٰی أَنَّہٗ لِلدِّعَارَۃِ ، لَا لِأَنَّہٗ حَدٌّ وَاجِبٌ کَوُجُوْبِ الْجَلْدِ وَالرَّجْمِ .
٤٧٤٣: عمرو بن شعیب نے اپنے والد اور انھوں نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو جان بوجھ کر قتل کردیا تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ایک سو کوڑے مارے اور جلا وطن کردیا اور میرے خیال میں مسلمانوں سے اس کا حصہ مٹا دیا اور اس کو ایک گردن آزاد کرنے کا حکم دیا۔ اب اس روایت میں مذکور فعل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ جلاوطنی جو کہ ایک سال کے لیے تھی وہ ہمارے اور تمہارے کسی کے نزدیک بھی حد واجب میں شامل نہیں ہے کہ اس کا ترک نہ ہوسکتا ہو۔ (بلکہ قاضی کی صوابدید پر موقوف چیزوں سے ہے) اور اس روایت میں اس کی جلاوطنی فسق کی وجہ سے تھی۔ حد کی بناء پر نہ تھی۔ پھر آپ کو اس روایت کے سلسلہ میں کیونکر انکار ہے جس میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زانی کی جلاوطنی فسق کے سلسلہ میں مروی ہے۔ نہ کہ حد واجب کے طور پر جیسا کہ کوڑے اور سنگساری حد واجب نہیں۔
تخریج : ابن ماجہ فی الجنایات باب ٢٤۔
اب اس روایت میں مذکور جلاوطنی جو کہ ایک سال کے لیے تھی وہ ہمارے اور تمہارے کسی کے نزدیک بھی حد واجب میں شامل نہیں ہے کہ اس کا ترک نہ ہوسکتا ہے۔ (بلکہ قاضی کی صوابدید پر موقوف چیزوں سے ہے) اور اس روایت میں اس کی جلاوطنی فسق کی وجہ سے تھی۔ حد کی بناء پر نہ تھی۔ پھر آپ کو اس روایت کے سلسلہ میں کیونکر انکار ہے جس میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زانی کی جلاوطنی فسق کے سلسلہ میں مروی ہے۔ نہ کہ حد واجب کے طور پر جیسا کہ کوڑے اور سنگساری حد واجب ہے۔