hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4782

.

الطحاوي

4782
Al Tahawi
۴۷۸۲: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْبَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ مُطَّرِفٍ عَنْ أَبِی الْجَہْمِ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : ضَلَّتْ اِبِلٌ لِیْ فَخَرَجْتُ فِیْ طَلَبِہَا فَاِذَا الْخَیْلُ قَدْ أَقْبَلَتْ فَلَمَّا رَأٰی أَہْلُ الْمَائِ الْخَیْلَ انْضَمُّوْا اِلَیَّ وَجَائُوْا اِلَی خِبَائٍ مِنْ تِلْکَ الْأَخْبِیَۃِ فَاسْتَخْرَجُوْا مِنْہَا رَجُلًا فَضَرَبُوْا عُنُقَہُ قَالُوْا : ہَذَا رَجُلٌ أَعْرَسَ بِامْرَأَۃِ أَبِیْہِ، فَبَعَثَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَتَلَہٗ۔قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی مَنْ تَزَوَّجَ ذَاتَ مَحْرَمٍ مِنْہُ وَہُوَ عَالِمٌ بِحُرْمَتِہَا عَلَیْہِ، فَدَخَلَ بِہَا أَنَّ حُکْمَہُ حُکْمُ الزَّانِیْ، وَأَنَّہٗ یُقَامُ عَلَیْہِ حَدُّ الزِّنَا الرَّجْمُ أَوْ الْجَلْدُ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَمِمَّنْ قَالَ بِہٰذَا الْقَوْلِ أَبُوْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَہُمَا اللّٰہُ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا یَجِبُ فِیْ ہٰذَا حَدُّ الزِّنَا ، وَلٰـکِنْ یَجِبُ فِیْہِ التَّعْزِیرُ وَالْعُقُوْبَۃُ الْبَلِیغَۃُ .وَمِمَّنْ قَالَ بِذٰلِکَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ وَسُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ رَحِمَہُمَا اللّٰہُ .
٤٧٨٢: ابو جہم نے براء بن عازب (رض) سے نقل کیا وہ کہتے ہیں کہ میرے اونٹ گم ہوگئے تو میں ان کی تلاش میں نکلا۔ اچانک میں نے گھوڑے آتے ہوئے دیکھے۔ جب پانی والوں نے گھوڑوں کو دیکھا تو وہ میری سمت آئے اور ان خیموں میں ایک کے پاس آئے اور ان میں سے ایک آدمی کو نکالا اور اس کی گردن اڑا دی اور کہنے لگے یہ وہ شخص ہے جس نے اپنے باپ کی منکوحہ سے شادی کرلی تھی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف یہ دستہ بھیج کر اس کو قتل کرا دیا ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جو شخص اپنے باپ کی منکوحہ سے شادی کرلے اور اس کو اس کی حرمت کا علم بھی ہو۔ پھر اس سے جماع کیا۔ اس کا حکم زانی جیسا ہے زانی کی حد اس پر قائم کی جائے گی یعنی سنگسار یا کوڑے لگانا۔ انھوں نے مندرجہ بالا آثار کو دلیل بنایا یہ امام ابو یوسف (رح) اور محمد (رح) کا قول ہے اور ان سے اختلاف کرتے ہوئے دوسروں نے کہا ہے کہ یہ نکاح کرنے والے پر زانی کی حد نہ لگے گی۔ مگر تعزیر لازم ہے اور زبردست سزا دی جائے گی (جو حد سے کم ہو) یہ امام ابوحنیفہ (رح) اور سفیان ثوری (رح) کا قول ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الحدود باب ٢٦۔
امام طحاوی (رح) کا قول : بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جو شخص اپنے باپ کی منکوحہ سے شادی کرے اور اس کو اس کی حرمت کا علم بھی ہو۔ پھر اس سے جماع کیا۔ اس کا حکم زانی جیسا ہے زانی کی حد اس پر قائم کی جائے گی یعنی سنگسار یا کوڑے لگانا۔ انھوں نے مندرجہ بالا آثار کو دلیل بنایا یہ امام ابو یوسف (رح) اور محمد (رح) کا قول ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : نکاح کرنے والے پر زانی کی حد نہ لگے گی۔ مگر تعزیر لازم ہے اور زبردست سزا دی جائے گی (جو حد سے کم ہو)
یہ امام ابوحنیفہ (رح) اور سفیان ثوری (رح) کا قول ہے۔