hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4850

.

الطحاوي

4850
Al Tahawi
۴۸۵۰: بِمَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ بْنُ یَزِیْدَ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَنْ عُرْوَۃَ وَعَمْرَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یُقْطَعُ یَدُ السَّارِقِ فِیْ رُبْعِ دِیْنَارٍ فَصَاعِدًا .فَقَالُوْا : ہَذَا اِخْبَارٌ مِنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا عَنْ قَوْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَدَلَّ ذٰلِکَ ، أَنَّ مَا ذَکَرْنَا عَنْہَا فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ ، مِنْ قَطْعِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ رُبْعِ دِیْنَارٍ فَصَاعِدًا ، اِنَّمَا أَخَذَتْ ذٰلِکَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِمَّا وَقَفَہَا عَلَیْہِ عَلٰی مَا فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، لَا مِنْ جِہَۃِ تَقْوِیْمِہَا ؛ لِمَا کَانَ قَطَعَ فِیْہِ .قِیْلَ لَہُمْ : ہَذَا کَمَا ذَکَرْتُمْ ، لَوْ لَمْ یَخْتَلِفْ فِیْ ذٰلِکَ عَنْہَا .فَقَدْ رَوَی ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عَمْرَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، مَا قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِی الْفَصْلِ الَّذِیْ قَبْلَ ہٰذَا الْفَصْلِ فَکَانَ ذٰلِکَ اِخْبَارًا مِنْہَا عَنْ فِعْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَا عَنْ قَوْلِہٖ .وَیُوْنُسُ بْنُ یَزِیْدَ - عِنْدَکُمْ - لَا یُقَارِبُ ابْنَ عُیَیْنَۃَ، فَکَیْفَ تَحْتَجُّوْنَ بِمَا رَوَی ، وَتَدَعُوْنَ مَا رَوَی ابْنُ عُیَیْنَۃَ ؟ قَالُوْا : فَقَدْ رُوِیَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ أَیْضًا ، مِنْ غَیْرِ ہٰذَا الْوَجْہِ، عَنْ عَمْرَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، کَمَا رَوَاہُ یُوْنُسُ بْنُ یَزِیْدَ .فَذَکَرُوْا
٤٨٥٠: عروہ اور عمرہ نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں کاٹا جائے گا۔ یہ حضرت عائشہ (رض) سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات ہیں پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ پہلی روایات میں ربع دینار یا اس سے زائد قیمت میں ہاتھ کا کاٹنا یہ بذات خود جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لیا گیا جو آپ نے ان کو بتلایا اس طرح نہیں جیسے سمجھا گیا کہ جس ڈھال کے بدلے میں ہاتھ کاٹا گیا اس کی قیمت لگائی گئی۔ (جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہوا تو پھر اس میں اجتہاد کی ضرورت نہیں) ۔ یہ بات جو آپ نے نقل کی ہے بالکل اسی طرح ہوگی اگر اس روایت میں اختلاف نہ ہو۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں۔ زہری نے عمرہ عن عائشہ (رض) سے روایت کی جو اس سے پہلی فصل میں ہم نے نقل کی ہے اس میں حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فعل کی خبر دی ہے نہ کہ قول کی۔ اس روایت کی سند میں یونس بن یزید ہے اور وہ آپ کے ہاں بھی ابن عیینہ کے ہم پلہ تو کیا ہوتے ان کے قریب بھی نہیں پھر اس کی روایت کو تم بطور دلیل اختیار کرتے ہو اور ابن عیینہ کی روایت کو چھوڑتے ہو۔ یہ روایت دیگر طرق سے بھی مروی ہے اور وہ بھی یونس کی طرح دیگر روات سے عمرہ عن عائشہ (رض) روایت کی ہے۔ ملاحظہ ہو۔ مخرمہ بن بکیر عن ابیہ۔
تخریج : بخاری فی الحدود باب ١٣‘ مسلم فی الحدود ٢‘ ابو داؤد فی الحدود باب ١٢‘ نسائی فی السارق باب ٩؍١٠‘ مسند احمد ٦؍١٠٤۔