۴۸۶۸: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَوْنٍ مَوْلٰی بَنِیْ ہَاشِمٍ قَالَ : ثَنَا الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ : أُتِیَ بِسَارِقٍ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّ ہَذَا سَرَقَ فَقَالَ مَا اِخَالُہُ سَرَقَ فَقَالَ السَّارِقُ : بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ اذْہَبُوْا بِہٖ فَاقْطَعُوْھُ ثُمَّ احْسِمُوْھُ ثُمَّ ائْتُوْنِیْ بِہٖ قَالَ : فَذُہِبَ بِہٖ فَقُطِعَ ثُمَّ حُسِمَ ثُمَّ أُتِیَ بِہٖ فَقَالَ تُبْ اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ : تُبْتُ اِلَی اللّٰہِ، فَقَالَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْکَ
٤٨٦٨: محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک چور خدمت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں لایا گیا تو انھوں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس نے چوری کی ہے آپ نے فرمایا میرے خیال میں تو اس نے چوری نہیں کی۔ چور کہنے لگا۔ کیوں نہیں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے فرمایا اس کو لے جا کر اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ پھر اس کو ابلتے تیل میں ڈال دو (تاکہ خون بہنے سے وہ ہلاک نہ ہوجائے) پھر اس کو میرے پاس لاؤ۔ ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں اس کو لے جا کر اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر داغا گیا پھر اس کو آپ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو۔ تو اس نے کہا میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ آپ نے دعا فرمائی اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ کو قبول فرمائے۔
تخریج : نسائی فی السارق باب ٣‘ دارمی فی الحدود باب ٦۔
لغات : مااخالہ۔ میں خیال نہیں کرتا۔ احسموہ گرم تیل سے داغو۔