hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4874

.

الطحاوي

4874
Al Tahawi
۴۸۷۴: حَدَّثَنَا أَبُوْ بِشْرٍ الرَّقِّیُّ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ أَنَّ رَجُلًا أَقَرَّ عِنْدَہُ بِسَرِقَۃٍ مَرَّتَیْنِ فَقَالَ : قَدْ شَہِدْتُ عَلٰی نَفْسِک شَہَادَتَیْنِ قَالَ : فَأَمَرَ بِہٖ فَقُطِعَ وَعَلَّقَہَا فِیْ عُنُقِہٖ۔ أَفَلَا تَرَی أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ رَدَّ حُکْمَ الْاِقْرَارِ بِالسَّرِقَۃِ اِلَی حُکْمِ الشَّہَادَۃِ عَلَیْہَا فِیْ عَدَدِ الشُّہُوْدِ فَکَذٰلِکَ الْاِقْرَارُ بِحُدُوْدِ اللّٰہِ کُلِّہَا لَا یُقْبَلُ فِیْ ذٰلِکَ اِلَّا بِعَدَدِ مَا یُقْبَلُ مِنِ الشُّہُوْدِ عَلَیْہَا .
٤٨٧٤: قاسم بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے متعلق بیان کیا کہ ان کے ہاں ایک آدمی نے چوری کا دو مرتبہ اقرار کیا تو آپ نے فرمایا تو نے اپنے نفس کے خلاف دو مرتبہ گواہی دی پھر آپ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا اور وہ ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا۔ اس روایت میں غور فرمائیں کہ حضرت علی (رض) نے چوری کے اقرار کو اس کے سلسلہ میں گواہوں کی تعداد کی طرف لوٹایا ہے تمام حدود اللہ میں اقرار کا حکم گواہی کی طرح ہوگا ان کے متعلق جتنی گواہی مطلوب ہوتی ہے۔ اقرار بھی اسی مقدار سے معتبر مانا جائے گا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک عورت زیورات عاریت کے طور پر لیتی اور ان کو واپس نہ کرتی۔ پس اس کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔
تخریج : ابن ماجہ فی الحدود باب ٢٣۔
حاصل روایت : اس روایت میں غور فرمائیں کہ حضرت علی (رض) نے چوری کے اقرار کو اس کے سلسلہ میں گواہوں کی تعداد کی طرف ولٹایا ہے تمام حدود اللہ اقرار کا حکم گواہی کی طرح ہوگا ان کے متعلق جتنی گواہی مطلوب ہوتی ہے۔ اقرار بھی اسی مقدار سے معتبر مانا جائے گا۔
نوٹ : اس باب میں امام طحاوی (رح) نے امام ابو یوسف (رح) کے مذہب کو ترجیح دی اور اقرار سرقہ کو اقرار شہادت کے مماثل قرار دیا اور نظر کو ان کی دلیل کی تائید میں لائے۔