۴۸۹۸: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ أَبِی دَاوٗدَ قَالَا : ثَنَا أَبُوْ یَعْلَی مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ صَفْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ قَالَ ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ وَکَانَ ثِقَۃً وَرَفَعَ بِہٖ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَیُّوْبَ عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْیَہُوْدِ رَضَخَ رَأْسَ جَارِیَۃٍ عَلٰی حُلِیْ لَہَا فَأَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُرْجَمَ حَتَّی قُتِلَ فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ قَتَلَ ذٰلِکَ الْیَہُوْدِیَّ رَجْمًا ، بِقَتْلِہِ الْجَارِیَۃَ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا فِیْ ہٰذَا الْأَثَرِ وَفِیْمَا نُقَدِّمُہُ مِنَ الْآثَارِ وَہُوَ رَضْخُہُ رَأْسَہَا ، وَالرَّجْمُ قَدْ یُصِیْبُ الرَّأْسَ وَغَیْرَ الرَّأْسِ فَقَدْ قَتَلَہُ بِغَیْرِ مَا کَانَ قَتَلَ بِہٖ الْجَارِیَۃَ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ مَا کَانَ فَعَلَ کَانَ حَلَالًا یَوْمَئِذٍ ثُمَّ نُسِخَ بِنَسْخِ الْمُثْلَۃِ. فَمَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ نَسْخِ الْمُثْلَۃِ ۔
٤٨٩٨: ابو قلابہ نے حضرت انس (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک یہودی نے ایک بچی کے سر کو اس کے زیورات حاصل کرنے کے لیے پتھر سے کچل دیا تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اس وقت تک پتھر مارنے کا حکم دیا یہاں تک کہ وہ مرجائے۔ اس روایت سے معلوم ہو رہا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس یہودی کو بچی کے قتل کی وجہ سے پتھروں سے ہلاک کیا جیسا کہ پہلی روایات میں مذکور ہوا کہ اس نے اس بچی کا سر کچل دیا تھا اور سنگساری تو سر پر بھی ہوتی ہے اور دوسرے جسم کے حصوں پر بھی تو اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ یہودی کا قتل اس طریقے سے نہ تھا جس طرح اس نے بچی کو قتل کیا تھا پس اس سے یہ دلالت مل گئی کہ آپ نے ان دنوں جو کچھ کیا یہ ان دنوں جائز تھا پھر مثلہ کی منسوخی سے یہ بھی منسوخ ہوگیا۔
تخریج : مسلم فی القسامۃ ١٦‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٢٣‘ والدیات باب ١٠‘ نسائی فی التحریم باب ٩‘ ابن ماجہ فی الحدود باب ٩‘ مسند احمد ٣؍١٦٣‘ ٥؍٢١٧۔