۴۹۰۵: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَمِّی وَہُوَ ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَمْرُو بْنِ الْحَارِثِ وَابْنُ لَہِیْعَۃَ أَنَّ بَکْرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ حَدَّثَہُمَا عَنْ أَبِیْھَاعَنِ ابْنِ یَعْلَی أَنَّہٗ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ فَأُتِیَ بِأَرْبَعَۃِ أَعْلَاجٍ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَمَرَ بِہِمْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ فَقُتِلُوْا صَبْرًا بِالنَّبْلِ .فَبَلَغَ ذٰلِکَ أَبَا أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیَّ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْہَیْ عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ کَانَتْ دَجَاجَۃٌ مَا صَبَرْتُہَا .فَبَلَغَ ذٰلِکَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ فَأَعْتَقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ .
٤٩٠٥: ابن یعلی طائی بیان کرتے ہیں کہ ہم عبدالرحمن بن خالد بن ولید (رض) کے ساتھ جہاد میں تھے تو دشمن کی طرف سے چار عجمی کافر لائے گئے حضرت عبدالرحمن کے حکم پر ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ان کو تیروں سے قتل کیا گیا یہ بات حضرت ابو ایوب انصاری (رض) کو پہنچی تو انھوں نے فرمایا میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ آپ باندھ کر قتل سے منع فرماتے تھے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر مرغی بھی ہوتی تو میں اسے باندھ کر قتل نہ کرتا۔ حضرت عبدالرحمن (رض) کو یہ بات پہنچی تو انھوں نے چار غلام آزاد کئے۔
تخریج : ابو داؤد فی الجہاد باب ١٢٠‘ دارمی فی الاضاحی باب ١٣‘ مسند احمد ٥؍٤٢٢۔
لغات : اعلاج۔ جمع علج۔ عجمی سردار۔ قتل صبرا۔ باندھ کر قتل کرنا۔