hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4914

.

الطحاوي

4914
Al Tahawi
۴۹۱۴: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ مُغِیْرَۃَ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ وَلَمْ یَذْکُرْ شَیْئًا عَنْ ہُنَیْ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔فَقَدْ ثَبَتَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ نَسْخُ الْمُثْلَۃِ بَعْدَ أَنْ کَانَتْ مُبَاحَۃً عَلٰی مَا قَدْ رَوَیْنَاہُ فِیْ حَدِیْثِ الْعُرَنِیِّیْنَ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : لَمْ یَدْخُلْ مَا اخْتَلَفْنَا نَحْنُ وَأَنْتُمْ فِیْہِ مِنَ الْقِصَاصِ فِیْ ہٰذَا لِأَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖ .قِیْلَ لَہٗ : لَیْسَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ یُرَادُ بِہَا ہٰذَا الْمَعْنٰی اِنَّمَا أُرِیْدَ بِہَا مَا قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِمَّا رَوَاہُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُوْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ .
٤٩١٤: علقمہ نے حضرت عبداللہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ ان روایات سے مثلہ کا نسخ ثابت ہوگیا جبکہ وہ پہلے مباح تھا جیسا روایت عرنیین میں ذکر ہوا۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ ان روایات میں جو کچھ ذکر ہوا اور ہمارے اور تمہارے درمیان جو مختلف ہے وہ تو اس میں داخل نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ فان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم ‘ (النحل ١٢٦) اگر تم بدلہ لو تو مثل سے بدلہ لو۔ جو تمہیں تکلیف پہنچائی گئی۔ تو اسے کہا جائے گا آیت سے یہ معنی مراد نہیں جو آپ نے مراد لیا ہے بلکہ اس کا مفہوم وہ ہے جو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے حضرت ابوہریرہ (رض) اور ابن عباس (رض) کی روایات ہم ذکر کرتے ہیں۔
حاصل روایات : ان روایات سے مثلہ کا نسخ ثابت ہوگیا جبکہ وہ پہلے مباح تھا جیسا روایت عرنیین میں ذکر ہوا۔
سوال : روایات میں جو کچھ ذکر ہوا اور ہمارے اور تمہارے درمیان جو مختلف ہے وہ تو اس میں داخل نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ فان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم ‘ (النحل ١٢٦) اگر تم بدلہ لو تو مثل سے بدلہ لو۔ جو تمہیں تکلیف پہنچائی گئی۔
جواب : آیت سے یہ معنی مراد نہیں جو آپ نے مراد لیا ہے بلکہ اس کا مفہوم وہ ہے جو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے حضرت ابوہریرہ (رض) اور ابن عباس (رض) کی روایات ہم ذکر کرتے ہیں۔