۴۹۱۹: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ قَالَ : ثَنَا مَہْدِیُّ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ عَنْبَسَۃَ ابْنِ سَعِیْدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا یُسْتَقَادُ مِنَ الْجُرْحِ حَتّٰی یَبْرَأَ .فَلَوْ کَانَ یُفْعَلُ بِالْجَانِیْ کَمَا فَعَلَ کَمَا قَالَ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی لَمْ یَکُنْ لِلِاسْتِیْنَائِ مَعْنًی لِأَنَّہٗ یَجِبُ عَلَی الْقَاطِعِ قَطْعُ یَدِہِ اِنْ کَانَتْ جِنَایَتُہُ قَطْعًا ، بَرَأَ مِنْ ذٰلِکَ الْمَجْنِیُّ عَلَیْہِ أَوْ مَاتَ .فَلَمَّا ثَبَتَ الْاِسْتِیْنَائُ لِیُنْظَرَ مَا یَئُوْلُ اِلَیْہِ الْجِنَایَۃُ ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ مَا یَجِبُ فِیْہِ الْقِصَاصُ ہُوَ مَا یَئُوْلُ اِلَیْہِ الْجِنَایَۃُ لَا غَیْرُ ذٰلِکَ .فَاِنْ طَعَنَ طَاعِنٌ فِیْ یَحْیَی بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ وَأَنْکَرَ عَلَیْنَا الِاحْتِجَاجَ بِحَدِیْثِہِ فَاِنَّ عَلِیَّ بْنَ الْمَدِیْنِیِّ قَدْ ذَکَرَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ أَنَّہٗ أَحَبُّ اِلَیْہِ فِیْ حَدِیْثِ الزُّہْرِیِّ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ .
٤٩١٩: شعبی نے حضرت جابر (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا زخم کا قصاص زخموں کے درست ہونے تک نہ لیا جائے۔ اسی طرح قاتل کے ساتھ کرنا ضروری تھا جیسا اس نے مقتول کے ساتھ کیا تو پھر زخمیوں کو مہلت دینے کا کوئی معنی نہیں۔ کیونکہ ہاتھ کاٹنے والے پر اس کے ہاتھ کا کاٹنا ضروری ہے۔ اگر اس کا جرم ہاتھ کاٹنا ہے تو زخمی اس سے بری ہو یا مرجائے اس کا تو کچھ تعلق نہیں۔ پس جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس کو مہلت دی جائے تاکہ جنایت کا انجام معلوم ہو تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ قصاص اسی میں ہے جس پر جنایت انجام پذیر ہوگی۔ کسی اور صورت میں نہ ہوگی۔ آپ نے ٤٩١٨ روایت پیش کی ہے۔ اس کا راوی یحییٰ بن ابی انیسہ مطعون ہے اس کی روایت سے استدلال درست نہیں۔
تخریج : مسند احمد ٢؍٢١٧‘ میں ال الفاظ سے ہے۔ فاذا برئت جراحتہ استقاد۔
فریق اوّل کا جواب : اگر اسی طرح قاتل کے ساتھ کرنا ضروری تھا جیسا اس نے مقتول کے ساتھ کیا تو پھر زخمیوں کو مہلت دینے کا کوئی معنی نہیں۔ کیونکہ ہاتھ کاٹنے والے پر اس کے ہاتھ کا کاٹنا ضروری ہے۔ اگر اس کا جرم ہاتھ کاٹنا ہے تو زخمی اس سے بری ہو یا مرجائے اس کا تو کچھ تعلق نہیں۔ پس جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس کو مہلت دی جائے تاکہ جنایت کا انجام معلوم ہو تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ قصاص اسی میں ہے جس پر جنایت انجام پذیر ہوگی۔ کسی اور صورت میں نہ ہوگی۔
سوال : آپ نے ٤٩١٨ روایت پیش کی ہے۔ اس کا راوی یحییٰ بن ابی انیسہ مطعون ہے اس کی روایت سے استدلال درست نہیں۔
جواب : علی بن مدینی نے یحییٰ بن سعید سے نقل کیا ہے کہ زہری کی روایت میں محمد بن اسحاق کی بجائے یحییٰ بن ابی انیسہ زیادہ پسند ہے پس اعتراض بےمحل ہے۔