hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4932

.

الطحاوي

4932
Al Tahawi
۴۹۳۱: وَقَدْ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ یُعْطَی النَّاسُ بِدَعْوَاہُمْ لَادَّعَیْ نَاسٌ دِمَائَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَہُمْ وَلٰـکِنَّ الْیَمِیْنَ عَلَی الْمُدَّعَیْ عَلَیْہِ .فَمَنَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُعْطَی أَحَدٌ بِدَعْوَاہُ دَمًا أَوْ مَالًا وَلَمْ یُوْجِبْ لِلْمُدَّعَی فِیْہِ بِدَعْوَاہُ اِلَّا بِالْیَمِیْنِ .فَہٰذَا حُکْمُ ہٰذَا الْبَابِ مِنْ طَرِیْقِ تَصْحِیْحِ مَعَانِی الْآثَارِ .وَأَمَّا وَجْہُ ذٰلِکَ مِنْ طَرِیْقِ النَّظَرِ فَاِنَّہُمْ قَدْ أَجْمَعُوْا أَنَّ رَجُلًا لَوْ ادَّعَی فِیْ حَالِ مَوْتِہِ أَنَّ لَہٗ عَلٰی رَجُلٍ دَرَاہِمَ ثُمَّ مَاتَ أَنَّ ذٰلِکَ غَیْرُ مَقْبُوْلٍ مِنْہُ وَأَنَّہٗ فِیْ ذٰلِکَ کَہُوَ فِیْ دَعْوَاہُ فِیْ حَالِ الصِّحَّۃِ .فَالنَّظْرُ عَلٰی ذٰلِکَ أَنْ یَکُوْنَ کَذٰلِکَ ہُوَ فِیْ دَعْوَاہُ الدَّمَ فِیْ تِلْکَ الْحَالِ کَہُوَ فِیْ دَعْوَاہُ ذٰلِکَ فِیْ حَالِ الصِّحَّۃِ .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٤٩٣١: ابن ابی ملیکہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر لوگوں کو فقط دعویٰ سے دے دیا جائے (طلب ثبوت نہ ہو) تو ضرور بضرور کچھ آدمی ‘ آدمیوں کے خون اور اموال کے دعویٰ دار بن جائیں گے لیکن قسم مدعیٰ علیہ پر ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ارشاد میں اس بات سے منع کردیا کہ کسی کو اس کے فقط دعویٰ خون یا مال کے ساتھ اس کو قبول سے منع فرمایا اور مدعی کے لیے اس کے دعویٰ کی وجہ سے مدعیٰ علیہ پر فقط قسم لازم کی گئی ہے۔ آثار کے معانی کی تصحیح کے اعتبار سے اس کا حکم یہی ہے۔ طریق نظر سے جائزہ لیں وہ اس طرح ہے کہ اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص مرتے وقت دعویٰ کرے کہ فلاں شخص کے ذمہ اس کے کچھ درہم ہیں پھر وہ مرجائے تو اس کی یہ بات قبول نہ کی جائے گی۔ اس کا یہ دعویٰ حالت صحت کے دعویٰ کی طرح ہوگا۔ (قبول نہ کیا جائے گا) (دلیل پر دارومدار ہوگا) پس تقاضا قیاس یہ ہے کہ اس حالت میں دعویٰ خون کا بھی وہی حال ہو اور وہی حکم ہو جو حالت صحت میں اس قسم کے دعویٰ کا ہوتا ہے۔ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف و محمد (رح) کا یہی قول ہے۔
تخریج : بخاری فی تفسیر سورة ٣‘ باب ٣‘ مسلم فی الاقضیہ ١ نسائی فی القضاۃ باب ٣٦‘ ابن ماجہ فی الاحکام باب ٧‘ مسند احمد ١‘ ٣٤٣؍٣٥١۔
جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ارشاد نے اس بات سے منع کردیا کہ کسی کو اس کے فقط دعویٰ خون یا مال کے ساتھ اس کو قبول سے منع فرمایا اور مدعی کے لیے اس کے دعویٰ کی وجہ سے مدعیٰ علیہ پر فقط قسم لازم کی گئی ہے۔ آثار کے معانی کی تصحیح کے اعتبار سے اس کا حکم یہی ہے۔ نظر طحاوی (رح) :
طریق نظر سے جائزہ لیں وہ اس طرح ہے کہ اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص مرتے وقت دعویٰ کرے کہ فلاں شخص کے ذمہ اس کے کچھ درہم ہیں پھر وہ مرجائے تو اس کی یہ بات قبول نہ کی جائے گی۔ اس کا یہ دعویٰ حالت صحت کے دعویٰ کی طرح ہوگا۔ (قبول نہ کیا جائے گا) (دلیل پر دارومدار ہوگا) پس تقاضا قیاس یہ ہے کہ اس حالت میں دعویٰ خون کا بھی وہی حال ہو اور وہی حکم ہو جو حالت صحت میں اس قسم کے دعویٰ کا ہوتا ہے۔