۴۹۴ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ قَالَ : (أَتَیْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ فَقُلْتُ حَاکَ فِیْ نَفْسِیْ أَوْ فِیْ صَدْرِیْ، اَلْمَسْحُ عَلَی الْخُفَّیْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، فَہَلْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ شَیْئًا قَالَ : نَعَمْ کُنَّا اِذَا کُنَّا سَفْرًا أَوْ مُسَافِرِیْنَ، أُمِرْنَا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَلَیَالِیْہَنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَۃٍ، وَلٰـکِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ) .
٤٩٤: زر کہتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال (رض) کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا میرے دل یا سینے میں یہ بات کھٹکی ہے کہ پیشاب و پائخانہ کے بعد مسح علی الخفین کا کیا حکم ہے کیا آپ نے اس سلسلے میں کوئی بات جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے تو وہ کہنے لگے جی ہاں ! ہم جب سفر میں ہوتے تو ہمیں حکم ملتا کہ تین دن رات کے لیے ہم اپنے موزے نہ اتاریں سوائے جنابت کی صورت کے لیکن پیشاب و پائخانہ میں ضرورت نہیں۔
تخریج : ترمذی فی الطھارۃ باب ٧١ نمبر ٩٦‘ نسائی فی الطھارۃ باب ٩٧‘ ابن ماجہ فی الطھارۃ باب ٦٢‘