۴۹۶۴: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍوْ عَنْ أَبِیْ سَلْمَۃَ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَضَیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْجَنِیْنِ بِغُرَّۃٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَۃٍ .فَقَالَ الَّذِیْ قَضَیْ عَلَیْہِ أَنَعْقِلُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَکَلَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَہَلَّ فَمِثْلُ ذٰلِکَ یُطَلُّ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ ہَذَا یَقُوْلُ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ، فِیْہِ غُرَّۃٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَۃٌ .
٤٩٦٤: ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گرنے والے حمل کے متعلق ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا ہے تو جس کے خلاف فیصلہ ہوا اس نے کہا کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ کھایا نہ پیا نہ چیخا نہ چلایا تو ایسا خون معاف ہونا چاہیے تو آپ نے فرمایا یہ شاعرانہ بات کررہا ہے۔ اس کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے۔
تخریج : ترمذی فی الدیات باب ١٥‘ ابن ماجہ فی الدیات باب ١١‘ مسند احمد ٢؍٤٩٨۔
بقول شاعر۔ یعنی یہ شاعرانہ تک بندی ہے جو ناقابل توجہ ہے۔