۴۹۶۶: حَدَّثَنَا أَبُوْ بِشْرٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّیُّ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوْسُفَ الْفِرْیَابِیُّ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ سَعِیْدٍ الثَّوْرِیُّ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِذَا أَمَّرَ رَجُلًا عَلٰی سَرِیَّۃٍ قَالَ لَہُ اِذَا لَقِیْتُ عَدُوَّک مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ، فَادْعُہُمْ اِلَیْ اِحْدَی ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ فَأَیَّتُہُنَّ أَجَابُوْک اِلَیْہَا ، فَاقْبَلْ مِنْہُمْ ، وَکُفَّ عَنْہُمْ ، اُدْعُہُمْ اِلَی الْاِسْلَامِ ، فَاِنْ أَجَابُوْکَ، فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ ، ثُمَّ اُدْعُہُمْ اِلَی التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِہِمْ اِلَی دَارِ الْمُسْلِمِیْنَ ، وَأَخْبِرْہُمْ أَنَّہُمْ اِنْ فَعَلُوْا ذٰلِکَ ، أَنَّ عَلَیْہِمْ مَا عَلَی الْمُہَاجِرِیْنَ ، وَلَہُمْ مَا لَہُمْ ، فَاِنْ ہُمْ أَبَوْا ، فَأَخْبِرْہُمْ أَنَّہُمْ کَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِیْنَ ، یَجْرِیْ عَلَیْہِمْ حُکْمُ اللّٰہِ الَّذِیْ یَجْرِیْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ ، وَلَا یَکُوْنُ لَہُمْ فِی الْفَیْئِ وَالْغَنِیْمَۃِ شَیْء ٌ ، اِلَّا أَنْ یُجَاہِدُوْا مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ ، فَاِنْ ہُمْ أَبَوْا أَنْ یَدْخُلُوْا فِی الْاِسْلَامِ ، فَسَلْہُمْ اِعْطَائَ الْجِزْیَۃِ ، فَاِنْ أَجَابُوْا فَاقْبَلْ مِنْہُمْ ، وَکُفَّ عَنْہُمْ ، فَاِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاَللّٰہِ وَقَاتِلْہُمْ قَالَ عَلْقَمَۃُ : فَحَدَّثْتُ بِہٖ مُقَاتِلَ بْنَ حَیَّانَ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِیْ مُسْلِمُ بْنُ ہَیْصَمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقْرِنٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔
٤٩٦٦: علقمہ بن مرثد نے ابن بریدہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی چھوٹے دستے پر کسی کو امیر مقرر فرماتے تو اس کو فرماتے جب تم اپنے مشرک دشمنوں کے مقابل ہوجاؤ تو ان کو تین باتوں میں سے ایک کی طرف بلاؤ (آپ نے لفظ خلال یا خصال فرمایا دونوں کا ایک ہی معنی ہے) وہ ان میں سے جس بات کو تسلیم کرلیں تم ان کی طرف سے قبول کرلو اور ہاتھ روک لو۔ ان کو اسلام کی دعوت دو اگر وہ تسلیم کرلیں تو ان سے قبول کرلو اور ہاتھ روک لو۔ پھر ان کو اپنے علاقہ سے مسلمانوں کے ملک کی طرف ہجرت کی دعوت دو اور ان کو بتلاؤ کہ اگر وہ ایسا کرلیں تو ان پر وہی کچھ لازم ہوگا جو مہاجرین پر ہے اور انھیں وہی کچھ (حقوق) حاصل ہوں گے جو ان کو حاصل ہیں اور اگر وہ وہاں سے ہجرت کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے۔ ان پر اللہ تعالیٰ کا وہ حکم جاری ہوگا جو عام مؤمنوں پر جاری ہوتا ہے۔ مگر ان کے لیے غنیمت اور مال فئی میں کوئی حصہ نہ ہوگا البتہ اس صورت میں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شرکت کریں۔ اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو انھیں جزیہ دینے کی دعوت دو اگر وہ اس کو تسلیم کرلیں تو ان کی یہ بات قبول کرلو اور ان سے ہاتھ روک لو۔ اگر وہ اس سے انکار کردیں تو اللہ تعالیٰ سے مدد چاہو اور ان سے لڑو۔ حضرت علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات مقاتل بن حیان سے بیان کی تو انھوں نے فرمایا کہ مجھ سے مسلم بن ہیصم نے نعمان بن مقرن (رض) سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح نقل کی ہے۔
تخریج : مسلم فی الجہاد ٢‘ ابو داؤد فی الجہاد باب ٨٢‘ ترمذی فی السیر ٣٠؍٤٧‘ ابن ماجہ فی الجہاد باب ٣٨‘ دارمی فی السیر باب ٣٨‘ مسند احمد ٥‘ ٣٥٢؍٣٥٨۔