۴۹۸۰: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیْرَۃِ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ قَالَ : جَائَ أَبُو الْعَالِیَۃِ اِلَیَّ وَاِلَیْ صَاحِبٍ لِی ، فَانْطَلَقْنَا مَعَہٗ حَتّٰی أَتَیْنَا نَصْرَ بْنَ عَاصِمٍ اللَّیْثِیَّ ، فَقَالَ أَبُو الْعَالِیَۃِ حَدِّثْ ہٰذَیْنِ حَدِیْثَک .قَالَ : ثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ مَالِکٍ اللَّیْثِیُّ قَالَ : بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَرِیَّۃً ، فَأَغَارَتْ عَلَی الْقَوْمِ ، فَشَدَّ رَجُلٌ وَاتَّبَعَہُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِیَّۃِ ، ثُمَّ ذَکَرَ حَدِیْثًا طَوِیْلًا أَرَدْنَا مِنْہُ مَا فِیْہِ مِنْ ذِکْرِ الْغَارَۃِ .
٤٩٨٠: حمید بن ہلال کہتے ہیں کہ میرے اور میرے ایک دوست کے پاس ابوالعالیہ آئے ہم ان کے ساتھ چل کر نصر بن عاصم لیثی کے ہاں گئے تو ان کو ابوالعالیہ نے کہا ان دو نے تمہاری روایت اس طرح بیان کی ہے ہمیں عقبہ بن مالک لیثی نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سریہ روانہ فرمایا جس نے ایک قوم پر لوٹ ڈالی۔ تو آدمی نے حملہ کیا سریہ کے ایک آدمی نے اس کا پیچھا کیا پھر طویل روایت ذکر کی۔ ہمارا یہاں مقصود صرف اچانک حملے کا تذکرہ ہے۔