hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5009

.

الطحاوي

5009
Al Tahawi
۵۰۰۸ : بِمَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یَعْقُوْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِیْ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِیْھَاعَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَفَعَ الرَّایَۃَ اِلَی عَلِیْ حِیْنَ وَجَّہَہُ اِلٰی خَیْبَرَ قَالَ امْضِ وَلَا تَلْتَفِتْ ، حَتّٰی یَفْتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکَ .فَسَارَ عَلِیٌّ شَیْئًا ثُمَّ وَقَفَ وَلَمْ یَلْتَفِتْ فَصَرَخَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ عَلٰی مَاذَا أُقَاتِلُ ؟ .قَالَ قَاتِلْہُمْ حَتّٰی یَشْہَدُوْا أَنْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ فَقَدْ مَنَعُوْا مِنْک دِمَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ اِلَّا بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَ أَبَاحَ لَہُ قِتَالَہُمْ وَاِنْ شَہِدُوْا أَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ حَتّٰی یَشْہَدُوْا مَعَ ذٰلِکَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ، لِأَنَّہُمْ قَوْمٌ کَانُوْا یُوَحِّدُوْنَ اللّٰہَ وَلَا یُقِرُّوْنَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیًّا بِقِتَالِہِمْ حَتّٰی یَعْلَمَ خُرُوْجَہُمْ مِمَّا أَمَرَ بِقِتَالِہِمْ عَلَیْہِ مِنَ الْیَہُوْدِیَّۃِ ، کَمَا أَمَرَ بِقِتَالِ عَبَدَۃِ الْأَوْثَانِ حَتّٰی یَعْلَمَ خُرُوْجَہُمْ مِمَّا قُوْتِلُوْا عَلَیْہِ .وَلَیْسَ فِیْ اِقْرَارِ الْیَہُوْدِ أَیْضًا بِأَنْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ مَا یَجِبُ أَنْ یَکُوْنُوْا مُسْلِمِیْنَ .وَلٰـکِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِتَرْکِ قِتَالِہِمْ اِذَا قَالُوْا ذٰلِکَ ، لِأَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنُوْا أَرَادُوْا بِہٖ الْاِسْلَامَ أَوْ غَیْرَ الْاِسْلَامِ .فَأَمَرَ بِالْکَفِّ عَنْ قِتَالِہِمْ حَتّٰی یَعْلَمَ مَا أَرَادُوْا بِذٰلِکَ ، کَمَا ذَکَرْنَا فِیْمَا قَدْ تَقَدَّمَ مِنْ حُکْمِ مُشْرِکِی الْعَرَبِ وَقَدْ أَتَی الْیَہُوْدُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَقَرُّوْا بِنُبُوَّتِہٖ وَلَمْ یَدْخُلُوْا فِی الْاِسْلَامِ فَلَمْ یُقَاتِلْہُمْ عَلَی اِبَائِہِمُ الدُّخُوْلَ فِی الْاِسْلَامِ اِذْ لَمْ یَکُوْنُوْا - عِنْدَہُ بِذٰلِکَ الْاِقْرَارِ - مُسْلِمِیْنَ .
٥٠٠٨: سہل بن ابی صالح نے اپنے والد سے انھوں نے جناب ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب حضرت علی (رض) کو خیبر کی طرف روانہ فرمایا تو جھنڈا سپرد کرتے ہوئے فرمایا۔ چلتے جاؤ اور ادھر ادھر مت مڑو۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تم کو فتح عنایت فرما دیں۔ پس حضرت علی (رض) تھوڑی دور چل کر رک گئے مگر ادھر ادھر توجہ کرنے کے بغیر زور سے آواز دی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں کس بات پر ان سے قتال کروں ؟ آپ نے فرمایا ان سے لاالٰہ الا اللہ محمدارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقرار تک لڑتے رہو۔ جب وہ یہ اقرار کرلیں تو انھوں نے تم سے اپنے مال و جان کو محفوظ کرلیا۔ سوائے اس کے کہ اسلام کا کوئی حق ہو اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ لڑائی کو مباح کیا اگرچہ وہ لاالٰہ الاّ اللہ کی شہادت دیں جب تک کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت نہ دیں کیونکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک تو مانتے تھے۔ مگر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا اقرار نہ کرتے تھے۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو ان سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا یہاں تک کہ ان کو معلوم ہو کہ کس چیز سے نکلنے کی بنا پر یہودی ہونے کے باوجود ان سے قتال کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ بت پرستوں کے خلاف اس وقت تک قتال کا حکم ہے ‘ یہاں تک کہ ان کو معلوم ہوجائے کہ کس چیز سے نکلنے کی بناء پر ان سے لڑا جا رہا ہے اور دوسری طرف یہود کے اقرار سے کہ لا الٰہ الاّ اللہ وان محمدارسول اللہ سے ان کا مسلمان ہونا لازم نہیں آتا لیکن جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے لڑائی چھوڑ دینے کا حکم دیا جبکہ وہ یہ اقرار کرلیں کیونکہ یہ بالکل ممکن ہے کہ انھوں نے اس سے اسلام کا ارادہ کیا ہو یا عدم اسلام کا۔ پس آپ نے ان سے لڑائی نہ کرنے کا حکم دیا جب تک کہ یہ معلوم نہ ہوجائے کہ ان کی مراد کیا ہے جیسا کہ ہم نے مشرکین عرب کا حکم ذکر کیا۔ یہودی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے آپ کی نبوت کا اعتراف کیا مگر وہ اسلام میں داخل نہ ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے اسلام میں داخل نہ ہونے کی بنا پر ان سے قتال نہیں فرمایا جبکہ آپ کے ہاں بھی وہ اپنے اس اقرار سے مسلمان نہ تھے۔
امام طحاوی (رح) کا قول : اس روایت سے معلوم ہوا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ لڑائی کو مباح کیا اگرچہ وہ لاالٰہ الاّ اللہ کی شہادت دیں جب تک کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت نہ دیں کیونکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک تو مانتے تھے۔ مگر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا اقرار نہ کرتے تھے۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو ان سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا یہاں تک کہ ان کو معلوم ہو کہ کس چیز سے نکلنے کی بنا پر یہودی ہونے کے باوجود ان سے قتال کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ بت پرستوں کے خلاف اس وقت تک قتال کا حکم یہاں تک کہ ان کو معلوم ہوجائے کہ کس چیز سے نکلنے کی بناء پر ان سے لڑا جا رہا ہے۔
اور دوسری طرف یہود کے اقرار سے کہ لا الٰہ الاّ اللہ وان محمد رسول اللہ سے ان کا مسلمان ہونا لازم نہیں آتا لیکن جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے لڑائی چھوڑ دینے کا حکم دیا جبکہ وہ یہ اقرار کرلیں کیونکہ یہ بالکل ممکن ہے کہ انھوں نے اس سے اسلام کا ارادہ کیا ہو یا عدم اسلام کا۔ پس آپ نے ان سے لڑائی نہ کرنے کا حکم دیا جب تک کہ یہ معلوم نہ ہوجائے کہ ان کی مراد کیا ہے جیسا کہ ہم نے مشرکین عرب کا حکم ذکر کیا۔ یہودی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے آپ کی نبوت کا اعتراف کیا مگر وہ اسلام میں داخل نہ ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے اسلام میں داخل نہ ہونے کی بنا پر ان سے قتال نہیں فرمایا جبکہ آپ کے ہاں بھی وہ اپنے اس اقرار سے مسلمان نہ تھے۔