hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 502

.

الطحاوي

502
Al Tahawi
۵۰۲ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ شِہَابٍ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاۃَ عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبِیْعَۃَ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی (الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ لِلْمُقِیْمِ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَۃُ أَیَّامٍ وَلَیَالِیْہِنَّ) .فَھٰذِہِ الْآثَارُ قَدْ تَوَاتَرَتْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالتَّوْقِیْتِ فِی الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَۃُ أَیَّامٍ وَلَیَالِیْہَا وَلِلْمُقِیْمِ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ .فَلَیْسَ یَنْبَغِیْ لِأَحَدٍ أَنْ یَتْرُکَ مِثْلَ ھٰذِہِ الْآثَارِ الْمُتَوَاتِرَۃِ إِلٰی مِثْلِ حَدِیْثِ أُبَیِّ بْنِ عُمَارَۃَ .وَأَمَّا مَا احْتَجُّوْا بِہٖ مِمَّا رَوَاہُ عُقْبَۃُ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَإِنَّہٗ قَدْ تَوَاتَرَتِ الْآثَارُ أَیْضًا عَنْ عُمَرَ بِخِلَافِ ذٰلِکَ .
٥٠٢: علی بن ربیعہ نے علی بن ابی طالب (رض) سے نقل کیا کہ کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسح علی الخفین میں مقیم کے لیے ایک دن رات اور مسافر کے لیے تین دن رات مقرر فرمائے ہیں۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایت تواتر کے ساتھ مسافر کے لیے تین دن رات اور مقیم کے لیے ایک دن رات کا وقت ثابت کر رہے ہیں پس ان روایات متواترہ کو ترک کر کے ابن ابی عمار (رض) کی طرف رجوع درست نہیں۔ حضرت عقبہ (رض) کی حضرت عمر (رض) سے منقولہ روایت کے برعکس حضرت عمر (رض) سے متواتر آثار توقیت مسح کے منقول ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔
تخریج : مسلم فی الطھارۃ نمبر ٨٥‘ نسائی فی الطھارۃ باب ٩٨‘ بیہقی فی السنن الکبرٰی ١؍٢٧٢‘ مصنف عبدالرزاق ٧٨٩‘ مسند احمد ١؍٩٦‘
حاصل روایات :
یہ تئیس روایات اس بات کو ثابت کر رہی ہیں کہ مسافر کے لیے موزوں کی مدت مسح تین دن رات اور مقیم کے لیے ایک دن رات ہے۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں :
اب ان روایات متواترہ کو چھوڑ کر حدیث ابی بن عمارہ کی طرف جانا درست نہیں اور عقبہ بن عامر (رض) کی روایت میں حضرت عمر (رض) کے ارشاد سے استدلال بھی درست نہیں کیونکہ خود ان کے بہت سے اقوال اس کے خلاف موجود ہیں۔
ملاحظہ فرمائیں :