hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5066

.

الطحاوي

5066
Al Tahawi
۵۰۶۵ : مَا حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ بُہْلُوْلٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اِدْرِیْسَ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ ، قَالَ : وَجَّہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قِبَلَ أَوْطَاسٍ ، فَأَدْرَکَ دُرَیْدَ بْنَ الصِّمَّۃِ رَبِیْعُ بْنُ رُفَیْعٍ ، فَأَخَذَ بِخِطَامِ جَمَلِہِ وَہُوَ یَظُنُّ أَنَّہٗ امْرَأَۃٌ ، فَاِذَا ہُوَ شَیْخٌ کَبِیْرٌ ، قَالَ مَاذَا تُرِیْدُ مِنِّیْ ؟ قَالَ : أَقْتُلُکَ، ثُمَّ ضَرَبَہٗ بِسَیْفِہٖ، قَالَ : فَلَمْ یُغْنِ شَیْئًا قَالَ : بِئْسَمَا سَلَّحَتْکَ أُمُّکَ، خُذْ سَیْفِیْ ہٰذَا مِنْ مُؤَخِّرِ رَحْلِی ، ثُمَّ اضْرِبْ، وَارْفَعْ عَنِ الْعِظَامِ ، وَارْفَعْ عَنِ الدِّمَاغِ فَاِنِّیْ کَذٰلِکَ کُنْتُ أَقْتُلُ الرِّجَالَ قَالُوْا : فَلَمَّا قُتِلَ دُرَیْدٌ ، وَہُوَ شَیْخٌ کَبِیْرٌ فَانٍ ، لَا یَدْفَعُ عَنْ نَفْسِہٖ، فَلَمْ یَعِبْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ ، دَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ الشَّیْخَ الْفَانِیْ یُقْتَلُ فِیْ دَارِ الْحَرْبِ ، وَأَنَّ حُکْمَہٗ فِیْ ذٰلِکَ حُکْمُ الشُّبَّانِ لَا حُکْمُ النِّسْوَانِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا یَنْبَغِیْ قَتْلُ الشُّیُوْخِ فِیْ دَارِ الْحَرْبِ وَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ ، کَالنِّسَائِ وَالذُّرِّیَّۃِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ۔
٥٠٦٥: عبداللہ بن ادریس نے محمد بن اسحاق سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اوطاس کی جانب ایک لشکر بھیجا تو حضرت ربیع بن رفیع (رض) نے درید بن صمہ کو پا لیا اور اس کے اونٹ کی لگام لے کر چل دیئے ان کا خیال تھا کہ وہ عورت ہے۔ تو اچانک انھوں نے دیکھا کہ یہ تو بوڑھا آدمی ہے اس نے کہا۔ تم مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟ اس نے کہا میں تمہیں قتل کروں گا پھر اس کو تلوار ماری تو اس سے کچھ بھی فائدہ نہ ہوا۔ اس نے کہا تمہاری ماں تمہیں ہتھیار پکڑنے کا بدترین طریقہ سکھایا ہے اس نے کہا میری تلوار میرے کجاوے کے پیچھے لٹکی ہے اسے لے کر مارو مگر اسے ہڈیوں اور دماغ سے الگ رکھنا میں اسی طرح قتل کیا کرتا تھا۔ جبکہ انتہائی بوڑھا درید جو اپنی طرف سے دفاع بھی نہ کرسکتا تھا وہ قتل ہوا اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان صحابہ کو ملامت نہ کی تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ دارالحرب میں اگر نہایت بوڑھا قتل ہو۔ تو اس کا حکم جوانوں والا ہے۔ عورتوں والا نہیں۔ دارالحرب میں بھی انتہائی بوڑھوں کا قتل درست نہیں ان کا حکم اس میں بچوں اور عورتوں کی طرح ہے دلیل یہ ہے۔
طریق استدلال : جبکہ انتہائی بوڑھا درید جو اپنی طرف سے دفاع بھی نہ کرسکتا تھا وہ قتل ہوا اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان صحابہ کو ملامت نہ کی تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ دارالحرب میں اگر نہایت بوڑھا قتل ہو۔ تو اس کا حکم جوانوں والا ہے۔ عورتوں والا نہیں۔
فریق ثانی کا مؤقف : دارالحرب میں بھی انتہائی بوڑھوں کا قتل درست نہیں ان کا حکم اس میں بچوں اور عورتوں کی طرح ہے دلیل یہ ہے۔