hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5081

.

الطحاوي

5081
Al Tahawi
۵۰۸۰ : وَقَدْ حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْہَالِ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ ، عَنْ بُدَیْلُ بْنُ مَیْسَرَۃَ الْعُقَیْلِیُّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بُلْقِیْنَ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَہُوَ بِوَادِی الْقُرٰی فَقُلْتُ :یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لِمَنِ الْمَغْنَمُ ؟ قَالَ لِلّٰہِ سَہْمٌ ، وَلِہٰؤُلَائِ أَرْبَعَۃُ أَسْہُمٍ فَقُلْتُ :فَہَلْ أَحَدٌ أَحَقُّ بِشَیْئٍ مِنَ الْمَغْنَمِ مِنْ أَحَدٍ ؟ قَالَ : لَا ، حَتَّی السَّہْمَ یَأْخُذُہُ أَحَدُکُمْ مِنْ جَنْبِہٖ ، فَلَیْسَ ہُوَ بِأَحَقَّ بِہٖ مِنْ أَخِیْہِ
٥٠٨٠: بدیل بن میسرہ عقیلی نے عبداللہ بن شقیق سے مقام بلقین کے ایک آدمی سے نقل کیا کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا جبکہ آپ وادی القریٰ میں تھے۔ میں نے سوال کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! غنیمت کس کا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کا اور چار حصے ان غازیوں کے۔ میں نے پوچھا کیا کوئی شخص غنیمت میں سے کسی چیز کا دوسرے سے زیادہ حقدار ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ یہاں تک کہ وہ تیر جو دشمن کے جسم سے قاتل نکالے اس کا بھی وہ دوسرے مسلمان سے زیادہ حقدار نہیں ہے۔