۵۰۹۷ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوْسٰی‘ عَنْ زِیَادِ بْنِ جَارِیَۃَ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ مَسْلَمَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ فِیْ بَدْأَتِہِ الرُّبُعَ ، وَفِیْ رَجْعَتِہِ الثُّلُثَ قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْاِمَامَ لَہٗ أَنْ یُنَفِّلَ مِنَ الْغَنِیْمَۃِ مَا أَحَبَّ ، بَعْدَ اِحْرَازِہِ اِیَّاہَا ، قَبْلَ أَنْ یُقَسِّمَہَا کَمَا کَانَ لَہُ قَبْلَ ذٰلِکَ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَیْسَ لِلْاِمَامِ أَنْ یُنَفِّلَ بَعْدَ اِحْرَازِ الْغَنِیْمَۃِ اِلَّا مِنَ الْخُمُسِ ، فَأَمَّا مِنْ غَیْرِ الْخُمُسِ فَلَا ، لِأَنَّ ذٰلِکَ قَدْ مَلَکَتْہُ الْمُقَاتِلَۃُ ، فَلَا سَبِیْلَ لِلْاِمَامِ عَلَیْہِ وَقَالُوْا : قَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ مَا کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُنَفِّلُہُ فِی الرَّجْعَۃِ ، ہُوَ ثُلُثُ الْخُمُسِ بَعْدَ الرُّبُعِ الَّذِیْ نَفَّلَہٗ، کَانَ فِی الْبَدْأَۃِ ، فَلَا یَخْرُجُ مِمَّا قُلْنَا فَقَالَ لَہُمُ الْآخَرُوْنَ : اِنَّ الْحَدِیْثَ اِنَّمَا جَائَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُنَفِّلُ فِی الْبَدْأَۃِ الرُّبُعَ ، وَفِی الرَّجْعَۃِ الثُّلُثَ ، وَکَمَا کَانَ الرُّبُعُ الَّذِیْ کَانَ یُنَفِّلُہُ فِی الْبَدْأَۃِ ، ہُوَ الرُّبُعَ قَبْلَ الْخُمُسِ ، فَکَذٰلِکَ الثُّلُثُ الَّذِیْ کَانَ یُنَفِّلُہُ فِی الرَّجْعَۃِ ، ہُوَ الثُّلُثُ أَیْضًا قَبْلَ الْخُمُسِ ، وَاِلَّا لَمْ یَکُنْ لِذِکْرِ الثُّلُثِ مَعْنًی .قِیْلَ لَہُمْ : بَلْ لَہُ مَعْنًی صَحِیْحٌ ، وَذٰلِکَ أَنَّ الْمَذْکُوْرَ مِنْ نَفْلِہِ فِی الْبَدْأَۃِ ہُوَ الرُّبُعُ ، مِمَّا یَجُوْزُ لَہُ النَّفَلُ مِنْہٗ، فَکَذٰلِکَ نَفْلُہُ فِی الرَّجْعَۃِ ہُوَ الثُّلُثُ ، مِمَّا یَجُوْزُ لَہُ النَّفَلُ مِنْہُ وَہُوَ الْخُمُسُ .وَقَالَ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی : فَقَدْ رُوِیَ حَدِیْثُ حَبِیْبٍ ہٰذَا، بِلَفْظٍ یَدُلُّ عَلٰی مَا قُلْنَا ۔
٥٠٩٧: زیاد بن جاریہ نے حبیب بن مسلمہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شروع میں چوتھا حصہ اور واپسی پر تیسرا حصہ لیتے تھے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ امام کو مال غنیمت جمع کرنے کے بعد اور تقسیم سے پہلے جس قدر چاہے لینے کا حق ہے جس طرح کہ اس سے پہلے لینے کا حق حاصل ہے۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔ دوسروں نے کہا امام کو مال غنیمت جمع کرنے کے بعد اس میں سے صرف پانچواں حصہ لینے کا اختیار ہے۔ اس کے علاوہ وہ نہیں لے سکتا کیونکہ یہ مال مجاہدین کی ملکیت ہے۔ فلہذا امام کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ فریق اوّل کے استدلال کا جواب یہ ہے کہ کہا جائے گا کہ مذکورہ روایت میں جو مذکور ہے اس میں احتمال یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو واپسی پر لیتے تھے وہ پانچویں حصہ کا تہائی ہو اور شروع میں چوتھائی حصہ لیتے ہوں اور یہ بھی ہمارے اس قول میں داخل ہے ‘ ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ حدیث میں تو واضح طور پر تیسرا حصہ واپسی پر اور چوتھا حصہ شروع میں لینے کا ذکر وارد ہے اور ابتداء میں آپ جو لیتے تھے وہ چوتھا حصہ ہوتا اور وہ خمس سے پہلے ہوتا اسی طرح واپسی پر تیسرا حصہ لیتے وہ خمس سے پہلے ہوتا۔ ورنہ تہائی کے ذکر کا کوئی مفہوم نہیں۔ فریق ثانی کا کہنا ہے کہ اس روایت کا یہ مفہوم نہیں بلکہ اس کا درست مطلب یہ ہے کہ ابتداء میں جس چوتھے کا ذکر ہے جو اس مال میں سے تھا جس کو آپ کے لیے لینا جائز تھا اور وہ خمس تھا اور اسی طرح تیسرے سے بھی اسی مال کا ثلث مراد جس کا لینا آپ کے لیے درست تھا اور وہ خمس تھا۔ آپ کی یہ تاویل تو تب چل سکتی ہے جبکہ یہ روایت انہی الفاظ سے ہو جو اوپر مذکور ہوئی۔ حبیب بن مسلمہ (رض) کی یہ روایت ان الفاظ سے بھی مذکور ہے جو ہمارے استدلال کی مؤید ہے۔ روایت ملاحظہ ہو۔
تخریج : ابو داؤد فی الجہاد باب ١٤٦‘ ابن ماجہ فی الجہاد باب ٣٥‘ مسند احمد ٤؍١٦٠‘ ٥؍٣٢٠۔
امام طحاوی (رح) کا قول : علماء کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ امام کو مال غنیمت جمع کرنے کے بعد اور تقسیم سے پہلے جس قدر چاہے لینے کا حق ہے جس طرح کہ اس سے پہلے لینے کا حق حاصل ہے۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : امام کو مال غنیمت جمع کرنے کے بعد اس میں سے صرف پانچواں حصہ لینے کا اختیار ہے۔ اس کے علاوہ وہ نہیں لے سکتا کیونکہ یہ مال مجاہدین کی ملکیت ہے۔ فلہذا امام کا اس میں کوئی دخل نہیں۔
فریق اوّل کے استدلال کا جواب : مذکورہ روایت میں جو مذکور ہے اس میں احتمال یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو واپسی پر لیتے تھے وہ پانچویں حصہ کا تہائی ہو اور شروع میں چوتھائی حصہ لیتے ہوں اور یہ بھی ہمارے اس قول میں داخل ہے۔
فریق اوّل کی طرف سے جواب الجواب : حدیث میں تو واضح طور پر تیسرا حصہ واپسی پر اور چوتھا حصہ شروع میں لینے کا ذکر وارد ہے اور ابتداء میں آپ جو لیتے تھے وہ چوتھا حصہ ہوتا اور وہ خمس سے پہلے ہوتا اسی طرح واپسی پر تیسرا حصہ لیتے وہ خمس سے پہلے ہوتا۔ ورنہ تہائی کے ذکر کا کوئی مفہوم نہیں۔
فریق ثانی کی طرف سے جواب : اس روایت کا یہ مفہوم نہیں بلکہ اس کا درست مطلب یہ ہے کہ ابتداء میں جس چوتھے کا ذکر ہے جو اس مال میں سے تھا جس کو آپ کے لیے لینا جائز تھا اور وہ خمس تھا اور اسی طرح تیسرے سے بھی اسی مال کا ثلث مراد جس کا لینا آپ کے لیے درست تھا اور وہ خمس تھا۔
فریق اوّل کا جواب درجواب : آپ کی یہ تاویل تو تب چل سکتی جبکہ یہ عوایت انہی الفاظ سے ہو اور جو اوپر مذکور ہو۔ حبیب بن مسلمہ (رض) کی یہ روایت ان الفاظ سے بھی مذکور ہے جو ہمارے استدلال کی مؤید ہے۔ روایت ملاحظہ ہو۔