hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5110

.

الطحاوي

5110
Al Tahawi
۵۱۰۹ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنِ ابْنِ لَہِیْعَۃَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِیْ عِمْرَانَ ، قَالَ : سَأَلْتُ سُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ ، عَنِ النَّفْلِ فِی الْغَزْوِ فَقَالَ : لَمْ أَرَ أَحَدًا صَنَعَہُ غَیْرَ ابْنِ خَدِیْجٍ ، نَفَّلَنَا بِاِفْرِیْقِیَّۃَ النِّصْفَ بَعْدَ الْخُمُسِ ، وَمَعَنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ الْأَوَّلِیْنَ أُنَاسٌ کَثِیْرٌ ، فَأَبَیْ جَبَلَۃُ بْنُ عَمْرٍو ، أَنْ یَأْخُذَ مِنْہَا شَیْئًا فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سِوَیْ جَبَلَۃَ بْنِ عَمْرٍو ، قَدْ قَبِلُوْا قِیْلَ لَہٗ : قَدْ صَدَقْتُ ، وَنَحْنُ فَلَمْ نُنْکِرْ أَنَّ النَّاسَ قَدْ اخْتَلَفُوْا فِیْ ذٰلِکَ ، فَمِنْہُمْ مَنْ أَجَازَ لِلْاِمَامِ النَّفَلَ قَبْلَ الْخُمُسِ وَمِنْہُمْ مَنْ لَمْ یُجِزْہُ وَأَنَّ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانُوْا فِیْ ذٰلِکَ مُخْتَلِفِیْنَ وَاِنَّمَا أَرَدْنَا بِمَا رَوَیْنَا عَنْ أَنَسٍ وَجَبَلَۃَ ، أَنَّہُمَا یُخَیَّرَانِ قَوْلَنَا ہَذَا مَعَ مَنْ قَدْ ذَکَرْنَا فِیْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ رُوِیَ أَیْضًا عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ فِیْ ہٰذَا۔
٥١٠٩: خالد بن ابی عمران سے روایت ہے۔ کہ میں نے سلیمان بن یسار سے جہاد میں نفل (زائد مال) دینے سے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا میں نے حضرت معاویہ بن خدیج (رض) کے علاوہ کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا انھوں نے ہمیں افریقہ میں خمس کے بعد آدھا مال دیا اور ہمارے ساتھ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت سے اولین مہاجرین صحابہ کرام (رض) تھے۔ حضرت جبلہ بن عمرو (رض) نے صرف اس میں سے کچھ بھی لینے سے انکار کردیا۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ حضرت عمرو (رض) کے علاوہ اس کو بقیہ صحابہ کرام (رض) نے کیوں کر قبول کرلیا۔ ان کو جواب میں کہے کہ تم نے درست کہا ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اس میں صحابہ کرام (رض) کا اختلاف تھا بعض نے خمس نکالنے سے پہلے کسی کو عطا کرنا امام کے لیے جائز قرار دیا اور بعض کے ہاں یہ درست نہیں۔ اس سلسلہ میں یقیناً اختلاف رائے صحابہ کرام کے مابین موجود ہے۔ یہاں تو صرف ہم یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ جن اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہم نے تذکرہ کیا ان کے ساتھ ساتھ حضرت انس ‘ جبلہ بن عمرو (رض) کی روایات ہمارے اس مؤقف کی حامی ہیں۔
ایک اعتراض :
حضرت جبلہ بن عمرو (رض) کے علاوہ اس کو بقیہ صحابہ کرام (رض) نے کیوں کر قبول کرلیا۔
جواب : تم نے درست کہا ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اس میں صحابہ کرام (رض) کا اختلاف تھا بعض نے خمس نکالنے سے پہلے کسی کو عطا کرنا امام کے لیے جائز قرار دیا اور بعض کے ہاں یہ درست نہیں۔ اس سلسلہ میں یقیناً اختلاف رائے صحابہ کرام کے مابین موجود ہے۔ یہاں تو صرف ہم یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ جن اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہم نے تذکرہ کیا ان کے ساتھ ساتھ حضرت انس ‘ جبلہ بن عمرو (رض) کی روایات ہمارے اس مؤقف کی حامی ہیں۔