۵۱۱۶ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِی ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُوْلُ ، فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْاِمَامَ اِذَا فَتَحَ أَرْضًا عَنْوَۃً ، وَجَبَ عَلَیْہِ أَنْ یَقْسِمَہَا کَمَا یَضُمُّ الْغَنَائِمَ ، وَلَیْسَ لَہٗ احْتِبَاسُہَا ، کَمَا لَیْسَ لَہُ احْتِبَاسُ سَائِرِ الْغَنَائِمِ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : الْاِمَامُ بِالْخِیَارِ ، اِنْ شَائَ خَمَّسَہَا وَقَسَمَ أَرْبَعَۃَ أَخْمَاسِہَا ، وَاِنْ شَائَ تَرَکَہَا أَرْضَ خَرَاجٍ وَلَمْ یَقْسِمْہَا .
٥١١٦: زید بن اسلم نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں نے عمر (رض) کو فرماتے سنا پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ امام جب کسی زمین کو زبردستی فتح کرے تو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اسی طرح اس کو تقسیم کر دے جیسے مال غنیمت کو تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کو اس علاقہ کے روک رکھنے کا حق حاصل نہیں جیسا کہ وہ مال غنیمت کو روک نہیں سکتا۔ انھوں نے اسی روایت کو دلیل بنایا ہے۔ دوسروں نے کہا دوسرے علماء کا قول یہ ہے کہ امام کو اختیار ہے کہ وہ اس کا خمس لے کر بقیہ چار حصے تقسیم کرے اور اگر مناسب خیال کرے تو خراجی زمین کے طور پر چھوڑ دے اور اس کو تقسیم نہ کرے۔
قول طحاوی (رح) : امام جب کسی زمین کو زبردستی فتح کرے تو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اسی طرح اس کو تقسیم کر دے جیسے مال غنیمت کو تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کو اس علاقہ کے روک رکھنے کا حق حاصل نہیں جیسا کہ وہ مال غنیمت کو روک نہیں سکتا۔ انھوں نے اسی روایت کو دلیل بنایا ہے۔