hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5160

.

الطحاوي

5160
Al Tahawi
۵۱۵۹ : حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِی ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَیُّوْبَ ، عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ ، عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، قَالَ : أَسَرَتْ ثَقِیْفُ رَجُلَیْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَۃَ ، فَمَرَّ بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ مُوْثَقٌ .فَأَقْبَلَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلَامَ اُحْتُبِسَ ؟ قَالَ : بِجَرِیْرَۃِ حُلَفَائِکَ، ثُمَّ مَضَیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَادَاہُ فَأَقْبَلَ اِلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ الْأَسِیْرُ اِنِّیْ مُسْلِمٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ قُلْتُہَا وَأَنْتَ تَمْلِکُ أَمْرَک أَفْلَحْت کُلَّ الْفَلَاحِ .ثُمَّ مَضَیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَادَاہُ أَیْضًا فَأَقْبَلَ فَقَالَ اِنِّیْ جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِیْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْفُذُک حَاجَتَک ثُمَّ اِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَادَاہُ بِالرَّجُلَیْنِ اللَّذَیْنِ کَانَتْ ثَقِیْفُ أَسَرَتْہُمَا.
٥١٥٩: ابو مہلب نے حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت کی ہے کہ قبیلہ بنو ثقیف نے دو صحابہ کرام (رض) کو قیدی بنا لیا۔ صحابہ کرام نے بنو عامر بن صعصعہ کے ایک آدمی کو گرفتار کیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے گزرے تو وہ بندھا ہوا تھا۔ آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ کہنے لگا مجھے کیوں قید کیا گیا ہے آپ نے فرمایا تمہارے حلیفوں کے جرم میں۔ پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے گئے تو اس نے آواز دی آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو قیدی کہنے لگا میں تو مسلمان ہوگیا ہوں آپ نے فرمایا اگر تو اس وقت یہ بات کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا تو مکمل طور پر فلاح و کامیابی پا لیتا۔
پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے گئے تو اس نے دوبارہ آواز دی آپ کے متوجہ ہونے پر کہنے لگا میں بھوکا ہوں آپ نے فرمایا میں تمہاری حاجت کو پورا کروں گا پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے ان دو آدمیوں کے عوض چھوڑ دیا جن کو بنو ثقیف نے گرفتار کیا تھا۔
تخریج : ابو داؤد فی الایمان باب ٢١‘ مسند احمد ٤‘ ٤٣٠؍٤٣٤۔