hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5240

.

الطحاوي

5240
Al Tahawi
۵۲۳۹ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِیٍّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیْ عَنْ قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاعْلَمُوْا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہُ الْآیَۃَ .قَالَ : أَمَّا قَوْلُہٗ فَأَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہُ فَہُوَ مِفْتَاحُ کَلَامِ اللّٰہِ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ .فَاخْتَلَفَ النَّاسُ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ قَائِلٌ : سَہْمُ ذَوِی الْقُرْبَی لِقَرَابَۃِ الْخَلِیْفَۃِ .وَقَالَ قَائِلٌ : سَہْمُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلْخَلِیْفَۃِ مِنْ بَعْدِہٖ۔ ثُمَّ أَجْمَعَ رَأْیُہُمْ عَلٰی أَنْ جَعَلُوْا ہٰذَیْنِ السَّہْمَیْنِ فِی الْخَیْلِ وَالْعِدَّۃِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَکَانَ ذٰلِکَ فِیْ اِمَارَۃِ أَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .فَلَمَّا اخْتَلَفُوْا فِیْمَا یُقْسَمُ عَلَیْہِ الْفَیْئُ وَخُمُسُ الْغَنَائِمِ ہَذَا الِاخْتِلَافِ ، فَقَالَ کُلُّ فَرِیْقٍ مِنْہُمْ مَا قَدْ ذَکَرْنَاہُ عَنْہُ .وَجَبَ أَنْ نَنْظُرَ فِیْ ذٰلِکَ ، لِنَسْتَخْرِجَ مِنْ أَقْوَالِہِمْ فِیْہِ قَوْلًا صَحِیْحًا . فَاعْتَبَرْنَا قَوْلَ الَّذِیْنَ ذَہَبُوْا اِلٰی أَنَّہُمَا یُقْسَمَانِ عَلَی سِتَّۃِ أَسْہُمٍ ، وَجَعَلُوْا مَا أَضَافَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ اِلَی نَفْسِہِ مِنْ ذٰلِکَ یَجِبُ بِہٖ سَہْمٌ ، یُصْرَفُ فِیْ حَقِّ اللّٰہِ تَعَالٰی ، کَمَا ذَکَرُوْا ، ہَلْ لَہُ مَعْنَی أَمْ لَا ؟ فَرَأَیْنَا الْغَنِیْمَۃَ قَدْ کَانَتْ مُحَرَّمَۃً عَلَی مَنْ سِوَیْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ مِنَ الْأُمَمِ ، ثُمَّ أَبَاحَہُ اللّٰہُ لِہٰذِہِ الْأُمَّۃِ رَحْمَۃً مِنْہُ اِیَّاہَا وَتَخْفِیْفًا مِنْہُ عَنْہَا ، وَجَائَ تْ بِذٰلِکَ الْآثَارُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٥٢٣٩: عبداللہ بن المبارک نے سفیان ثوری سے انھوں نے قیس بن مسلم سے نقل کیا ہے کہ میں نے حسن بن محمد بن علی (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق دریافت کیا۔ واعلموا انما غنمتم من شیٔ فان اللہ ۔ الایۃ وہ کہنے لگے ” فان اللہ خمسہ “ یہ ابتدا کلام ہے دنیا و آخرت میں کلام کی ابتداء اللہ تعالیٰ کے نام سے ہے۔ وللرسول ولذی القربی الایۃ۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ذی القربیٰ ‘ یتامیٰ مساکین اور مسافروں کا تذکرہ حصوں کی تقسیم کے لیے ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد آپ کا حصہ باقی ہوگا یا نہیں۔ اس کے متعلق دو رائے ہوئیں۔ ذوالقربیٰ کا حصہ خلفاء کے قرابت داروں کے لیے ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حصہ آپ کے بعد خلیفہ کے لیے ہوگا۔ پھر اس پر اتفاق صحابہ ہوا کہ یہ دونوں حصے گھوڑے اور جہاد کے اسلحہ کے لیے استعمال ہوں گے۔ یہ حضرت ابوبکر و عمر (رض) کی خلافت میں تھا۔ اب جبکہ فئی اور خمس غنائم کی تقسیم میں یہ اختلاف ہوا اور ہر فریق نے وہ بات کہی جس کا ہم نے تذکرہ کیا تو اب ضروری ہوگیا کہ ہم ان کے اقوال سے صحیح قول سامنے لائیں۔ پس ہم نے اولاً اس قول کا جائزہ لیا جو اس کو چھ حصوں میں تقسیم کے قائل ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہونے والے حصہ کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال کرنا لازم کیا (بیت اللہ کے لئے) جیسا کہ انھوں نے ذکر کیا کیا اس کا کوئی مطلب بنتا ہے یا نہیں۔ پس ہم نے غور کیا کہ اس امت کے علاوہ دیگر امتوں پر غنیمت کا استعمال حرام تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت کرتے ہوئے اور اس امت پر تخفیف کرتے ہوئے اس کو حلال فرمایا اور اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کئی آثار وارد ہیں ملاحظہ ہوں۔
جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد آپ کا حصہ باقی ہوگا یا نہیں۔ اس کے متعلق دو رائے ہوئیں۔
نمبر 1: ذوالقربیٰ کا حصہ خلفاء کے قرابت داروں کے لیے ہے۔
نمبر 2: جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حصہ آپ کے بعد خلیفہ کے لیے ہوگا۔ پھر اس پر اتفاق صحابہ ہوا کہ یہ دونوں حصے گھوڑے اور جہاد کے اسلحہ کے لیے استعمال ہوں گے۔ یہ حضرت ابوبکر و عمر (رض) کی خلافت میں تھا۔ اب جبکہ فئی اور خمس غنائم کی تقسیم میں یہ اختلاف ہوا اور ہر فریق نے وہ بات کہی جس کا ہم نے تذکرہ کیا تو اب ضروری ہوگیا کہ ہم ان کے اقوال سے صحیح قول سامنے لائیں۔
پس ہم نے اولاً اس قول کا جائزہ لیا جو اس کو چھ حصوں میں تقسیم کے قائل ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہونے والے حصہ کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال کرنا لازم کیا (بیت اللہ کے لئے) جیسا کہ انھوں نے ذکر کیا کیا اس کا کوئی مطلب بنتا ہے یا نہیں۔
پس ہم نے غور کیا کہ اس امت کے علاوہ دیگر امتوں پر غنیمت کا استعمال حرام تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت کرتے ہوئے اور اس امت پر تخفیف کرتے ہوئے اس کو حلال فرمایا اور اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کئی آثار وارد ہیں ملاحظہ ہوں۔