۵۲۴۴ : حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُثْمَانَ قَالَ : ثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَطَائٍ فِیْ قَوْلِہٖ یَسْأَلُوْنَک عَنِ الْأَنْفَالِ قُلْ الْأَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ .قَالَ : مَا نَدَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِلَی الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ غَیْرِ قِتَالٍ ، مِنْ دَابَّۃٍ وَنَحْوِ ذٰلِکَ ، فَہُوَ نَفْلٌ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَقَالَ : وَالدَّلِیْلُ عَلَیْ صِحَّۃِ ہَذَا التَّأْوِیْلِ ، مَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ أَمْرِ أَبِیْ بَکْرَۃَ .
٥٢٤٤: عبدالملک بن سلیمان نے عطاء (رح) سے اس آیت کے متعلق نقل کیا۔ یسئلونک عن الانفال قل الانفال اللہ والرسول الایۃ۔ کہنے لگے مشرکین کا جو اونٹ ‘ غلام وغیرہ مسلمانوں کی طرف بلا قتال بھاگ کر آجائے وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے نفل ہے اور عطاء (رح) کہنے لگے اس تاویل کے درست ہونے کی دلیل وہ روایت ہے جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو بکرہ کے بارے میں فرمائی۔ (وہ روایت یہ ہے)