۵۲۴۷ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ بْنِ مُوْسٰی‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِیُّ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُہَلْہَلٍ ، عَنِ الْمُغِیْرَۃِ ، عَنِ الشِّبَاکِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِیْفٍ قَالَ : سَأَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَرُدَّ اِلَیْنَا أَبَا بَکْرَۃَ ، فَأَبَیْ عَلَیْنَا وَقَالَ ہُوَ طَلِیْقُ اللّٰہِ، وَطَلِیْقُ رَسُوْلِہِ .أَفَلَا تَرَی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْتَقَ أَبَا بَکْرَۃَ ، وَمَنْ نَزَلَ اِلَیْہِ مِنْ عَبِیْدِ الطَّائِفِ ، عِتْقًا صَارُوْا بِہٖ مَوَالِیَہٗ؟ فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ مِلْکَہُمْ کَانَ وَجَبَ لَہُ قَبْلَ الْعَتَاقِ ، دُوْنَ سَائِرِ مَنْ کَانَ مَعَہُ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ، وَأَنَّہُمْ اِذَا أُخِذُوْا بِغَیْرِ قِتَالٍ ، کَمَا لَوْ لَمْ یُوْجَفْ عَلَیْہِ بِخَیْلٍ وَلَا رِکَابٍ ، وَذٰلِکَ لِرَسُوْلِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، دُوْنَ مَنْ سِوَاہٗ، مِمَّنْ کَانَ مَعَہُ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ .وَقَدْ قَالَ قَوْمٌ : اِنَّ تَأْوِیْلَ ہٰذِہِ الْآیَۃِ أُرِیْدُ بِہٖ مَعْنًی غَیْرَ ہٰذَیْنِ الْمَعْنَیَیْنِ .
٥٢٤٧: شباک نے شعبی (رح) سے انھوں نے ثقیف کے ایک آدمی سے روایت کی ہے کہ ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ وہ ابو بکرہ کو ہمیں واپس کردیں تو آپ نے انکار فرما دیا اور فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر آزاد شدہ ہے اور اللہ کے رسول نے اس کو آزاد کیا ہے۔ ان روایات میں غور فرمائیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو بکرہ کو آزاد فرما دیا اور ان تمام غلاموں کو بھی آزاد فرما دیا جو قلعہ سے اتر کر آگئے تھے وہ آپ کے موالی بن گئے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ان پر آپ کی ملک عتاق سے قبل کامل تھی اور مسلمانوں کو ان پر ملک حاصل نہ ہوئی تھی۔ اس لیے کہ وہ بغیر لڑائی کے حاصل ہوئے تھے۔ جس طرح کہ وہ بستیاں جن پر پیدل و سوار فوج کو چڑھا کرلے جانے کی ضرورت نہ پڑی۔ یہ خاص جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تھے دوسروں کا اس میں حق نہ تھا۔
تخریج : مسند احمد ٤؍١٦٨‘ ٣١٠۔
حاصل روایات : ان روایات میں غور فرمائیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو بکرہ کو آزاد فرما دیا اور ان تمام غلاموں کو بھی آزاد فرما دیا جو قلعہ سے اتر کر آگئے تھے وہ آپ کے موالی بن گئے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ان پر آپ کی ملک عتاق سے قبل کامل تھی اور مسلمانوں کو ان پر ملک حاصل نہ ہوئی تھی۔ اس لیے کہ وہ بغیر لڑائی حاصل ہوئے تھے۔ جس طرح کہ وہ بستیاں جن پر پیدل و سوار فوج کو چڑھا کرلے جانے کی ضرورت نہ پڑی۔ یہ خاص جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تھے دوسروں کا اس میں حق نہ تھا۔
(تو گویا نفل سے مراد وہ اموال ہیں جو بغیر لڑائی کے حاصل ہوں اور وہ اس آیت کی مراد ہیں (واللہ اعلم)
اس آیت کی ایک اور تفسیر ملاحظہ ہو۔
مندرجہ بالا دو معانی کے علاوہ بھی اس آیت کی تفسیر کی گئی ہے وہ درج ذیل ہے۔